"فلسطینی ریاست کے لیے جنگ کے بعد کے منصوبوں پر خطے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے منگل کے روز اسرائیل سے اعتدال پسند فلسطینیوں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ جنگ کے بعد کے منصوبوں پر کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، وہ علاقے کی تعمیرِ نو اور حکومت کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب وہاں "فلسطینی ریاست کا راستہ" ہو۔

امریکہ اور اسرائیل حماس کے خلاف جنگ میں متحد ہیں لیکن غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کافی منقسم ہیں۔ واشنگٹن اور اس کے عرب اتحادی طویل عرصے سے ختم ہوتے ہوئے امن عمل کو بحال کرنے کی امید کر رہے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادی اس خیال کے خاصے مخالف ہیں۔

غزہ میں جنگ اب بھی جاری ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے اور چھوٹے ساحلی علاقے میں ایک انسانی تباہی کو ہوا دے رہی ہے۔ اس لڑائی نے اسرائیل اور لبنان کے حزب اللہ کے مزاحمت کاروں کے درمیان بڑھتا ہوا تشدد بھی پیدا کیا ہے جس سے وسیع تر تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اعلیٰ اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ اسرائیل کو "ایسے اقدامات کرنے سے باز آنا چاہیے جس سے فلسطینیوں کی مؤثر طریقے سے ازخود حکومت کرنے کی اہلیت کو نقصان پہنچے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو "فلسطینی رہنماؤں کا شراکت دار ہونا چاہیے جو اپنے لوگوں کی رہنمائی کرنے کے لیے تیار ہوں" اور "اسرائیل کے ساتھ امن سے شانہ بشانہ رہیں۔"

"آباد کاروں کا تشدد، بستیوں میں توسیع، گھروں کو مسمار کرنا اور بے دخلی "یہ سب اسرائیل کے لیے دیرپا امن و سلامتی کا حصول آسان نہیں بلکہ مشکل بناتے ہیں۔"

امریکی حکام نے فلسطینی اتھارٹی جو اس وقت اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں کا انتظام کر رہی ہے، سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی باگ ڈور سنبھالے۔ اسرائیلی رہنماؤں نے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے لیکن انہوں نے اس بات سے آگے کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کیا ہے کہ وہ علاقے پر کھلے عام فوجی کنٹرول برقرار رکھیں گے۔

بلنکن نے کہا ہے کہ سعودی عرب، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی نے جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو اور حکمرانی کے لیے منصوبہ بندی شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ اردن، مصر اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنما بدھ کو اردن کے جنوبی بحیرۂ احمر کے شہر عقبہ میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

غزہ میں شدید لڑائی

امریکہ جس نے اسرائیل کی جارحیت کے لیے اہم فوجی اور سفارتی مدد فراہم کی ہے، اس نے اسرائیل پر حماس کو نشانہ بنانے والی مزید درست کارروائیوں کی طرف جانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ لیکن موت اور تباہی کی رفتار بڑی حد تک ایک جیسی رہی ہے اور حالیہ دنوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیل نے حماس کو تباہ کرنے تک جاری رکھنے کا عزم کیا ہے جس کے جنوبی اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حملے کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تھی۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور تقریباً 250 دیگر کو اغوا کر لیا جن میں سے تقریباً نصف کو نومبر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران رہا کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج کہتی ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں حماس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیا ہے - جہاں تمام محلوں کو مسمار کر دیا گیا ہے - لیکن وہ اب بھی مزاحمت کاروں کے چھوٹے گروپوں سے لڑ رہی ہے۔ جارحیت کا مرکز جنوبی شہر خان یونس اور وسطی غزہ میں قائم پناہ گزین کیمپوں پر مرکوز ہو گیا ہے۔

ایک فوجی ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا، "لڑائی 2024 تک جاری رہے گی۔"

حماس کے زیرِ انتظام غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں اسرائیل کے حملے میں 23,200 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جو علاقے کی آبادی کا تقریباً 1 فیصد ہے اور 58,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزاحمت کاروں اور عام شہریوں میں فرق نہیں کیا گیا۔

پیر کو دیر البلاح کے وسطی قصبے میں ایک مکان پر حملہ ہوا جس میں غزہ کے معروف دنداں ساز جمال نعیم کی والدہ، تین بیٹیاں اور تین چھوٹے پوتے جاں بحق ہو گئے۔ ہسپتال کے باہر نعیم نے سفید کپڑے کا ایک چھوٹا سا بنڈل پکڑا ہوا تھا جس میں ان کی ایک بالغ بیٹی شائمہ کی باقیات تھیں۔ وہ بھی دنداں ساز تھیں۔

"ہمیں اس کا بس یہی ملا، صرف اس کے سر کی جلد اور اس کے بال۔" انہوں نے روتے ہوئے کہا۔ رہائشیوں نے بتایا کہ نعیم حماس کی ایک سیاسی شخصیت باسم نعیم کے بھائی ہیں لیکن وہ خود اس گروپ کے رکن نہیں ہیں۔

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا کہ منگل کے روز جنوبی غزہ میں رفح میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے چھ لاشوں کو قریبی کویت ہسپتال لے جایا گیا اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک صحافی نے ان کی گنتی کی۔ الکویت ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر صہیب الحمس کے مطابق دو دیگر لاشوں کو رفح میں ہی یوسف النجار ہسپتال پہنچایا گیا۔

پیر کا دن غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے لیے اب تک کے مہلک ترین دنوں میں سے ایک تھا جب فوج کے مطابق نو فوجی ہلاک ہوئے۔ فوج نے بتایا کہ ان میں سے چھ ایک حادثاتی دھماکے میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب افواج وسطی غزہ میں ہتھیاروں کی پیداوار کے ایک مقام کو کنٹرول شدہ مسمار کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔

فوج نے کہا ہے کہ اکتوبر کے آخر میں زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 185 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک انسانی بحران

غزہ کی 2.3 ملین کی آبادی کا تقریباً 85 فیصد لڑائی کی وجہ سے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں اور اس کے ایک چوتھائی باشندوں کو فاقوں کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیل کے محاصرے میں خوراک، پانی، ادویات اور دیگر سامان کی صرف ایک قلیل مقدار علاقے میں داخل ہو رہی ہے۔

اوچا کے نام سے معروف اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی امداد کی ترسیل میں شدید رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ اس نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے انخلاء کے احکامات سے کئی گودام، تقسیم کے مراکز، صحت کی سہولیات اور پناہ گاہیں متأثر ہوئی ہیں۔

شمالی غزہ میں صورتِ حال اور بھی سنگین ہے جسے اسرائیلی افواج نے اکتوبر کے آخر میں باقی علاقوں سے کاٹ دیا تھا۔ وہاں رہنے والے دسیوں ہزار افراد کو خوراک اور پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن دو ہفتوں سے شمال میں سپلائی پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ اوچا نے کہا ہے کہ فوج نے اس عرصے کے دوران شمال کی جانب پانچ طے شدہ امدادی قافلوں کو مسترد کر دیا جن میں طبی سامان اور پانی اور صفائی کی سہولیات کے لیے ایندھن کی ترسیل شامل تھی۔

بلنکن نے کہا کہ مزید خوراک، پانی، ادویات اور دیگر امداد داخل کرنے اور مؤثر طریقے سے تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ "غزہ کے دوسرے حصوں میں امداد کی فراہمی میں کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔"

وسیع تر تصادم کا خدشہ

گذشتہ ہفتے بیروت میں حماس کے نائب سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے غزہ جنگ کے وسعت اختیار کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

منگل کے روز حزب اللہ نے کہا کہ اس کے پھٹنے والے ڈرون نے سفید قصبے میں اسرائیلی فوج کی شمالی کمان کو نشانہ بنایا - جو اس گروپ کی طرف سے گذشتہ فائر کی نسبت اسرائیل میں زیادہ گہرا حملہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک ڈرون شمال میں ایک فوجی مرکز پر گرا جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے روک لیا گیا تھا۔ فوجی حکام نے فوجی مرکز کی شناخت نہیں کی۔

اس دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے کم از کم چار ارکان ہلاک ہو گئے جن میں ایک وہ بھی شامل تھا جو اس گاؤں میں مارا گیا جہاں ایک روز قبل جاں بحق ہونے والے حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی تدفین کی گئی تھی۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ جنازے سے قبل جاں بحق ہونے والا شخص علی حسین برجی جنوب میں حزب اللہ کے ڈرونز کا انچارج تھا، لیکن حزب اللہ کے ایک اہلکار نے گروپ کے ضابطوں کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وہ صرف ایک سپاہی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں