اسرائیلی حملوں سے تباہ غزہ کے الشفاء ہسپتال کی سروس جزوی طور پر بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کا متعدد بار نشانہ بننے والے غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا عملہ دو ہفتوں کے بعد ہسپتال کی عمارت تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔

WHO کے مطابق جمعرات کو ادارے اور اس کی شراکت دار تنظیموں کے ارکان غزہ کی پٹی کے شمال میں الشفاء ہسپتال پہنچ گئے جہاں اشد ضروری ایندھن اور طبی سامان پہنچایا گیا۔

سربراہ عالمی ادارہ صحت ٹیڈروس اڈھانم گیبریسس نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر کہا، "ٹیم نے اطلاع دی ہے کہ الشفاء ہسپتال نے (جزوی طور پر) خدمات دوبارہ فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔"

ٹیڈروس نے کہا کہ نومبر میں اسرائیلی فوجیوں کے چھاپوں اور عمارت پر قبضے کے بعد بڑے پیمانے پر ہسپتال نے کام بند کر دیا تھا جس کے بعد ایجنسی نے اسے "ڈیتھ زون" قرار دے دیا تھا۔ اب اس میں 60 افراد کا طبی عملہ ہے۔

ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے زیرِ قیادت قافلے نے جمعرات کو ہسپتال میں نو ہزار 300 لیٹر (2,500 گیلن) ایندھن اور طبی سامان پہنچایا تھا تاکہ 1,000 ٹراما اور گردوں کے ڈائیلاسز کے 100 مریضوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

ایجنسی دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے الشفاء اور شمالی غزہ کے دیگر ہسپتالوں تک پہنچنے کی سخت کوشش کر رہی تھی اور اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ اسے سکیورٹی کی کمی کی وجہ سے وہاں چھ طے شدہ مشن منسوخ کرنا پڑے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس کی ہسپتالوں کے نیچے سرنگیں ہیں اور وہ طبی سہولیات کو کمانڈ سینٹرز کے طور پر استعمال کرتا ہے جبکہ اس الزام کو مزاحمت کار گروپ اور اقوامِ متحدہ کی متعدد تنظیموں نے مسترد کیا ہے۔

اسرائیل نے ایک مسلسل فوجی مہم شروع کر رکھی ہے جس میں کم از کم 23,469 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے اس ہفتے کہا کہ غزہ کے 36 میں سے صرف 15 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر جنوب میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں