حوثی اہداف پر حملوں سے قبل تل ابیب کو اطلاع دی گئی تھی: اسرائیلی عہدیدار

فوج ہر طرح کے حالات میں فوری رد عمل کے لیے تیار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک اسرائیلی اہلکار نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کو یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں کے بارے میں پیشگی مطلع کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی اہلکار نے امریکی ’ایکسیس‘ویب سائٹ کو سمجھایا کہ حوثیوں کے کسی اقدام کے ردعمل کےلیے فوج ہائی الرٹ پر ہے۔

امریکی فضائیہ نے یمن میں حوثیوں کے16 ٹھکانوں پر 60 سے زیادہ اہداف پرحملے کیے جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، گولہ بارود کے ڈپو، لانچ سسٹم، پیداواری سہولیات اور فضائی دفاعی ریڈار سسٹم شامل ہیں۔

امریکی فضائیہ کے ایک بیان کے مطابق بمباری مختلف اقسام کے 100 سے زیادہ گائیڈڈ میزائل استعمال کیے گئے۔ یہ حملے سمندر اور فضا سے کیے گئے، جن میں ٹما ہاک میزائل بھی شامل ہیں جو سطح زمین اور زیر زمین پلیٹ فارم سے داغے گئے۔

العربیہ اور الحدث ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حملوں میں حدیدہ کی بندرگاہ کے ارد گرد حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور صنعا، صعدہ، حدیدہ، ذمار اور تعز میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ رائیٹرز نے تصدیق کی کہ صنعاء میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایک سینیر حوثی اہلکار نے کہا کہ امریکی- برطانوی فضائی حملوں نے صنعا اور دیگر یمنی گورنریوں کے مقامات کو نشانہ بنایا۔

حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اسرائیلی جہازوں یا ان کی طرف جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رہے گا۔

حوثی ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے امریکی اور برطانوی فضائی حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے اور ان کے پاس جواب دینے کے آپشنز موجود ہیں۔

دوسری جانب حوثی رہ نما علی القحوم نے کہا کہ حوثی فورسز نے بحیرہ احمر میں امریکی اور برطانوی جنگی جہازوں کو جوابی کارروائی کی۔ اس کے بعد امریکا اور برطانیہ نے دارالحکومت صنعا اور یمن کے دیگر صوبوں میں اہداف پر حملے شروع کیے تھے۔

اہلکار نے بتایا کہ حوثی گروپ امریکی اور برطانوی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور بحیرہ احمر میں جنگ جاری ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکا اور برطانیہ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایرانی حمایت یافتہ باغیوں کے خلاف "کامیابی سے" حملوں کی ہدایت کی ہے جب کہ برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک نے تصدیق کی حملے "ضروری" اور "متناسب" تھے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے وضاحت کی کہ حملوں میں ڈرونز اور میزائلوں کے لیے ریڈارز اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد "حوثیوں بحیرہ احمر میں جہازوں کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی تجارت کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو غیر فعال اور کمزور کرنا تھا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں