خطے میں کشیدگی کا سبب اسرائیلی جنگی جرائم ہیں: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن نے غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کو ایک مرتبہ پھر مذمت کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیل کے جنگی جرائم ہی ہیں جن کی وجہ سے خطے میں کشیدگی پھیل رہی ہے۔ اسی وجہ سے بحیرہ احمر میں کشیدگی کی وجہ بھی اسرائیل ہے اور پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیل جانے کا خطرہ بھی اسی کی وجہ سے پیدا ہو چکا ہے۔ یہ بات اردن کی طرف سے جمعہ کے روز کہی گئی ہے۔

اسرائیل جو پچھلے سال اکتوبر سے غزہ میں مسلسل اندھا دھند بمباری اور گولہ باری کر کے اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے اب تک تقریباً 24000 فلسطینیوں کی جان لے چکا ہے۔ تاہم وہ اسے نسل کشی کے طور پر قبول کرتا ہے نہ ہی 23 لاکھ کے قریب فلسطینیوں کو بے گھر کرنے، پورے غزہ کو بمباری کر کے تباہ کر دینے اور بجلی و پانی سمیت خوراک و ادویات کی فراہمی کو جانتے بوجھتے روکنے کو جنگی جرائم ماننے کو تیار ہے۔

اسرائیل نے اس عرصے میں غزہ کے ہسپتال، ہسپتالوں کی ایمبولینس گاڑیوں اور سینکڑوں ڈاکٹروں یا طبی عملے کے ارکان کے علاوہ ستر سے زائد صحافیوں کو بھی جانتے بوجھتے ہوئے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اسرائیل کے نزدیک یہ سب کچھ اس کے حق دفاع کا تقاضا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف شروع کی گئی بمباری کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے اردنی وزیر خارجہ ایمن صفادی نے اسرائیل کو حقیقی طور پر جنگی جرائم کا مرتکب اور جنگ پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ایمن صفادی نے کہا 'حقیقیت یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں پورا علاقے خطرے میں گھر چکا ہے۔'

وزیر خارجہ نے اردن کے سرکاری ذرائع ابلاغ پر کہا کہ 'غزہ پر اسرائیلی جارحیت مسلسل جاری ہے۔ یہ جارحیت بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ '

ان کا کہنا تھا 'سلامتی اور علاقائی استحکام کا باہم گہرا تعلق ہے۔ اب بین الاقوامی برادری اس انسانی، اخلاقی اور سلامتی کے دوراہے پر ہے۔ اس کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یا تو اسرائیل کو جارحیت سے روکے یا پھر علاقے اور دنیا کے امن کو اسرائیل کے لیے قربان کر دے۔'

ایمن صفادی نے مزید کہا' یہ اسرائیل ہے جو خطے کو مزید تصادم کی طرف لے جارہا ہے اور نئے جنگی محاذ کھولنا چاہتا ہے۔ جبکہ غزہ میں اسرائیلی فوج کا شہریوں کو اپنے نشانے پر رکھنا نسل کشی کی ہر تعریف پر پورا اترتا ہے۔'

تاہم اسرائیل نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی جمعہ کے روز جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اسرائیل کے خلاف بین لاقوامی عدالت انصاف جنوبی افریقہ کے دائر کردہ مقدمے کی سماعت کا جمعے کو دوسرا دن تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں