فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے لیے تین ماہ کی جنگ بندی کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے جمعہ کے روزاطلاع دی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس میں غزہ میں تین ماہ کی جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نئی تجویز کس نے پیش کی ہے لیکن اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں ہزاروں فلسطینیوں کی رہائی اور شمالی غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے افراد کی ان کے گھروں کو واپسی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی مالی امداد پر بھی زور دیا گیا ہے۔

کمیشن نے کہا کہ فلسطینی اور اسرائیلیوں نے ابھی تک اس رپورٹ پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ اسرائیلی جنگی کونسل حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے قطر کی جانب سے ایک نئی تجویز پر تبادلہ خیال کرے گی۔

گزشتہ نومبر میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کا منظر
گزشتہ نومبر میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کا منظر

براڈ کاسٹنگ کمیشن نے وضاحت کی کہ اس تجویز کی تفصیلات جسے اس نے "نئی" قرار دیا میں کئی چیزیں شامل ہیں، جن میں سے سب سے اہم غزہ کی پٹی سے حماس کے رہ نماؤں کا انخلا، اسرائیلی فوج کا انخلا اور قیدیوں کی رہائی کی تجویز شامل ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے ارکان جو 7 اکتوبر کو غزہ سے جنوبی اسرائیل میں گھس آئے تھے۔ انہوں نے 240 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا جن میں سے 130 اب بھی غزہ کی پٹی میں موجود ہیں۔

قیدیوں کی واپسی اسرائیل کی طرف سے غزہ کی جنگ میں اعلان کردہ اہداف میں شامل ہے اور یہ پورے اسرائیلی معاشرے میں ایک فوری حل طلب مسئلہ بھی ہے۔ اسرائیل بھر میں دیواروں، بس اسٹاپوں اور دکانوں پر قیدیوں کی تصویریں دکھائی دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں