فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کی پٹی میں ایک سرنگ میں یرغمالیوں کی موجودگی کے ملے ہیں: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے بدھ کو کہا کہ اسے ایسے شواہد ملے ہیں کہ غزہ کی پٹی کا شہر خان یونس جو اسرائیل کی زمینی کارروائی کا مرکز بنا ہوا ہے، اس کی ایک سرنگ میں یرغمالی موجود تھے۔

صحافیوں کو تباہ شدہ گھروں اور گلیوں کے کھنڈرات کے قریب ایک محلے میں لے جایا گیا تھا جہاں فوج نے انہیں ایک سرنگ دکھائی۔ ایک رہائشی صحن میں سرنگ کے داخلی دروازے کو ایک بل دار ٹین کی جھونپڑی نے ڈھانپ رکھا تھا۔

ایک عارضی سیڑھی تقریباً 2.5 میٹر (8 فٹ) نیچے زیرِ زمین تنگ راستے کی طرف لے جاتی تھی۔ سرنگ گرم مرطوب تھی جس کی دیواریں کنکریٹ سے بنی اور ان پر بجلی کے تار تھے۔ اس سے آگے ایک غسل خانہ تھا جہاں فوج نے کہا کہ اسے ثبوت ملے تھے کہ یرغمالی بشمول ان کے ڈی این اے وہاں موجود تھے۔

فوج کے چیف ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا، "یہاں اس سرنگ سسٹم میں یرغمالی قید میں رکھے گئے تھے۔"

ہگاری نے اس بارے میں کوئی تفصیلات پیش نہیں کیں کہ سرنگ میں اصل میں کیا ملا اور نہ ہی یہ بتایا کہ یرغمالی کب وہاں موجود تھے یا کب ان کی شناخت ہوئی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان کے مردہ یا زندہ ہونے کے بارے میں معلومات تھیں۔

بعد ازاں میڈیا کو دیئے گئے ایک بیان میں بغیر کسی وضاحت کے انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو "مشکل حالات" میں رکھا گیا تھا۔

نومبر کے اواخر میں جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا شدہ کئی یرغمالیوں نے بتایا کہ انہیں سرنگوں کے اندر رکھا گیا تھا جو حماس نے پورے غزہ کی پٹی میں بچھا رکھی ہیں اور جن کے بارے میں اسرائیل کہتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے ناکہ بندی والے علاقے میں ہتھیاروں اور مزاحمت کاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔

یہ سرنگ شہر کے ایک ایسے حصے میں ملی جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ وہاں شدید لڑائی ہوتی رہی ہے۔ قریبی رہائش گاہ بری طرح تباہ شدہ تھی۔

ایک اور عمارت میں کئی اپارٹمنٹس کی دیواریں اڑ گئی تھیں۔ گندگی کے بڑے ڈھیروں نے علاقے کو گھیرا ہوا تھا بظاہر اس وجہ سے کہ اسرائیلی بلڈوزر گندگی کے ڈھیروں تلے دفن شدہ دھماکہ خیز مواد تلاش کرتے رہے تھے۔ ایک خالی اسکول کے باہر ایک ٹینک کھڑا تھا جہاں بیرونی دیواروں سے اسرائیلی پرچم لٹکا ہوا تھا۔ سر پر اڑتے ڈرون کی بھنبھناہٹ جیسی آواز اور گولیاں چلنے کی آوازیں دور سے آتی سنی جا سکتی تھیں۔

فوج نے کہا ہے کہ حماس سرنگوں کے اندر سے کارروائی کر رہی ہے اور فوجی حکام نے سرنگوں کے نظام کی تباہی کو اپنا اولین ہدف بنا لیا ہے۔

فوج کے 98ویں ڈویژن کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ڈین گولڈفس نے سرنگوں کو "720 ڈگری کا خطرہ" قرار دیا۔

گولڈفس نے کہا، "یہ 360 نہیں بلکہ 720 ڈگری ہے، زیرِ زمین اور زمین کے اوپر۔"

اسرائیل کو یہ بھی یقین ہے کہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار خان یونس کی کسی سرنگ میں چھپے ہوئے ہیں۔

غزہ کا دوسرا بڑا محصور شہر حالیہ ہفتوں میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ بدھ کے روز صحافیوں کے دورے کے موقع پر کوئی بھی رہائشی علاقے میں نظر نہیں آیا۔ اسرائیل نے شہریوں کو شہر کے کچھ حصوں کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق 7 اکتوبر کے شدید حملے میں حماس اور دیگر مزاحمت کاروں نے 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور تقریباً 250 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حملے سے جنگ چھڑ گئی۔ حماس کے زیرِ اقتدار غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق 23,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ غزہ کی 2.3 ملین آبادی کے 85 فیصد سے زیادہ افراد بے گھر ہیں اور علاقے کے بڑے حصے زمیں بوس ہو چکے ہیں۔

تقریباً 110 یرغمالی رہا کر دیئے گئے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق تقریباً 110 اسیران اور اسیری میں ہلاک ہونے والے تقریباً 20 افراد کی لاشیں بھی اغوا کاروں کے ساتھ ہیں۔ کئی دیگر اسیران کی لاشیں اسرائیلی افواج نے بازیافت کر لیں اور تین مغویوں کو فوج نے غلطی سے ہلاک کر دیا۔

یرغمالیوں کی حالتِ زار نے اسرائیلیوں پر گہرا اثر کیا ہے جنہیں وہ صبر و تحمل کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے 7 اکتوبر کو ریاست کی اپنے شہریوں کے تحفظ میں ناکامی برداشت کی۔

اسرائیل نے حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحیتوں کو کچلنے کے ساتھ ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کو اپنے جنگی مقاصد کا حصہ بنا لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں