فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ:مسلسل بمباری سے ہسپتال تباہ،ایمبولینسیں غیرمحفوظ، طبی عملہ بد ترین تھکاوٹ کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

غزہ کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی ہر روز ہونے والی بھر مار اور ہلاکتوں نے بچے کھچے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے دوسرے ارکان کو بری طرح تھکا دیا ہے۔ ہر روز کی بمباری اور جاری ناکہ بندی نے مایوسی بھی پیدا کر دی ہے۔

مسلسل اسرائیلی حملوں کی وجہ سے طبی عملے کے بہت سے ارکان جاں بحق ہو چکے ۔ بہت سوں کے اہل خانہ بمباری میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے ہلاک کر دیے ہیں۔ بے شمار ایسے ہیں جنہیں اسرائیلی بمباری نے بے گھر کر دیا ہے۔ لیکن وہ بھر بھی اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے بچے کھچے ہسپتالوں اور تقریباً ناپید ہوچکی طبی سہولیات کے ساتھ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اچھی خاصی تعداد بمباری اور بے گھری کے سب نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جبکہ باقی رہ گئے طبی عملے کے ارکان کے بارے میں بھی خدشہ ہے کہ اگر بمباری اور ہسپتالوں کو فراہم کی جانے والی امدادی اشیا خصوصاً ادویات روکے رکھی گئیں تو باقی ماندہ ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان بھی نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے،کیونکہ ہر آنے والے لمحے میں بمباری اور گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔

ایسے ہی طبی عملے کے ایک پریشان حال رکن نے بتایا ' ہمارے پاس زخمی اور مریض آتے ہیں مگر ہمارے پاس انہیں دینے کے لئے دوا نہیں ہے کہ ناکہ بندی اور امدادی اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹوں نے ادویات اور دوسری طبی سہولتوں کا ایک بحران پیدا کر رکھا ہے۔ ہم اپنے سامنے برے حال میں زخمیوں اور مریضوں کو تڑپتا دیکھتے ہیں مگر ہم ان کے سامنے بے بس ہوتے ہیں کہ انکے کچھ کام آسکیں۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ بہت بری اور پریشان کن حالات ہیں۔ ان حالات میں طبی عملے کے لوگ زیادہ پریشان ہیں اس لئے جب بمباری ہوتی ہے تو خدشہ ہوتا ہے کہ مزید ارکان میں کمی نہ ہو جائے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اب تک تقریباً چوبیس ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد ساٹھ ہزار کو چھو رہی ہے۔ بیماروں ۔ زخمیوں اور بے گھر فلسطینیوں کے لئے ایک ہسپتال بھی اس پوزیشن میں نہیں رہا ہے کہ مریضوں اور زخمیوں کو مکمل علاج کی سہولیات دے سکے۔

ادویات کے علاوہ پانی اور بجلی تک کے مسئلے انتہائی شدید ہں۔ کوئی بھی نظام بمباری نے باقی نہیں رہنے دیاہے۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر اور طبی عملے کے بچے لوگ بھی اسرائیلی بمباری کی زد میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔

اسی وجہ سے اقوام متحدہ کیطرف سے بھی کہا جا چکا ہے کہ غزہ کی پٹی پر ہسپتالوں کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کو خوف ہے کہ بچا کھچا ہسپتالوں کا نام نشان بھی ختم نہ ہو جائے

ڈاکٹر خالد ابو عویمر نے کہا ہسپتال کے نزدیکی مصروف علاقوں میں درجنوں افراد گھس چکے۔ کچھ نے اسٹریچر کو کھینچا جیسے طبیبوں نے پٹیاں تیار کیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہسپتال کے گردونواح کو نشانہ بنایا گیا اور ایمبولینس گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں ۔

اسی بدھ کے روز فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی ک ایمبولینس گاڑی کو دیر البلاح میں بمباری کر کے نشانہ بنایا گیا۔ ایمبولینس میں طیبی عملے کے چار ارکان سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

وزات صحت کے مطابق اب تک اسرائیلی بمباری کی وجہ سے 120 ایمبولینس گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔ جبکہ طبی عملے کی ہلاکتیں تین سو سے بھی زائد ہیں۔

بدھ کے روز اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس نے پہلے حماس پر ہسپتالوں اور ایمبولینسوں سے کام کرنے کا الزام لگایا ہے، جس کی عسکریت پسند گروپ نے تردید کی ہے۔

الاقصیٰ ہسپتال میں ایک بستر پر، ایک مریض چہرے پر آکسیجن ماسک کے ساتھ لیٹا ہوا تھا۔ اس کے نزدیک ہی فرش پر خون جما ہوا تھا۔ ایک اور زخمی آدمی فرش پر اس طرح بیٹھا تھا جیسے اس کے ساتھ والے کمرے سے خون آلود پانی بہہ رہا ہو۔

یہاں بتایا گیا ہے کہ الاقصیٰ ہسپتال کے طبی عملے کے کئی ارکان نقل مکانی کے باعث اب نہیں آتے۔ جبکہ اسرائیلی زمیںی حملوں کے علاوہ ابھی بمباری بھی چل رہی ہے۔ نہ جانے کون اس بمباری کی زد میں آگیا ہو یا آجائے۔ وسطی علاقے میں ہونے والی بمباری نے لوگوں کو جنوبی غزہ کی طرف زبردستی دھکیل دیا گیا ہے۔

ایک برطانوی ڈاکٹر جو ایک امدادی ادارے کے تحت یہاں الاقصیٰ ہسپتال میں کام کر چکے ہیں۔ وہ دسمبر کے اواخر میں یہاں آئے تھے۔ بعد ازاں انہیں یہاں سے زبردستی انخلاء پر مجبور کر دیا گیا۔

ہسپتال کے مریضوں سے معلوم ہوا کہ اس ہسپتال میں ٹرامے سے دوچار ہونےوالے مریضوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ ابو عوایمر نے کہا ' یہاں ہم ہر روز بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں دیکھتے ہیں۔ جس علاقے میں بمباری ہوتی ہے درجنوں ہلاک ہو چکے افراد اور زخمی یہاں لائے جاتے ہیں۔ کہ اس پورے علاقے میں اب جو ہسپتال باقی بچا ہے اور جس میں تھوڑا بہت عملہ باقی رہ گیا ہے یہی اقصیٰ ہسپتال رہ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں