ابوظہبی : بد عنوانی وسرکاری امورمیں مداخلت پر میاں بیوی کو 66 سال سزائے قیداورجرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ابوظہبی کی عدالت نے نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ایک جوڑے کو جعلسازی، رشوت ستانی اور تجارتی دھوکہ دہی کے سلسلے میں جرائم کے سلسلے میں 66 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ سزا میں جوڑے کے لیے دس ملین ڈالر کا جرمانہ بھی شامل ہے۔

اماراتی جوڑے کے ساتھیوں کو بھی انہی جرائم میں ملوث اور اعانت کے جرم میں سزائے قید اور جرمانہ سنایا گیا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اماراتی میاں بیوی اپنے گھر میں نجی گودام بنا کر اشیاءے خودو نوش کو ذیرہ کرنے کا دھندہ شروع کر رکھا تھا اور بعد ازاں مہنگے داموں فروخت کرتے تھے۔

اشیائے استعمال اور اشیائے خود نوش کے سلسلے میں ایک بد دیانتی یہ کر رہے تھے کہ ان کی میعاد استعمال ختم ہونے کے بعد جعل سازی سے نئی ' ایکسپائری ڈیٹ ' کی جعلی مہریں لگاتے اور انسانی صحت اور زندگییوں سےکھلواڑ کرتے رہے ۔ بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں انہوں نےکئی دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ رکھا تھا۔

امارات میں امیر تر ہونے کی ہوس میں مبتلا یہ جوڑا رشوت دے کر بجلی کے کنکشن حاصل کرنے کے الزام میں بھی ماخوز رہا ہے۔ جیسا کہ بعض حرام خور اس طریقے کو فائلوں کو پہیے لگانے سے تعبیر کرتے ہیں۔

ابو ظہبی کے محکمہ انصاف کے مطابق بااثر جوڑے عوامی اتھارٹی میں مداخلت کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا، میٹر کے بغیر ہی اپنے نجی کھیت ے لیے پانی کا پائپ بچھا کر پانی چرایا قانون کی خلاف ورزی کی، نیز پانی کی تقسیم کی ذمہ دار اتھارٹی کے کام میں ناجائز مداخلت کی اور دوسروں کے طے شدہ اور پانی کے حصول کے جائز حقوق میں رخنہ ڈالا ۔

اسی طرح الیکٹریکل پینل میں مداخت کرتے ہوئے بوجھ کر چھ املاک میں بجلی بورڈ کے آلات کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی لگایا گیا تھا، مزید برآں، حکام نے کہا کہ مدعا علیہان نے عوامی املاک پر قبضہ کرکے غیر قانونی طور پر نقل و حمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

یاد رہے وطن عزیز پاکستان میں اس طرح کے الزامات کے تحت بااثر لوگوں کو کم ہی سزا کا موقع آتا ہے لیکن امارات میں قانون کی حکمرانی کا یہ معاملہ کافی مختلف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں