یمن اور حوثی

امریکی وبرطانوی مفادات جائز اہداف ہیں، دونوں ملکوں کی بمباری کے بعد حوثی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی مراکز کو امریکی اور برطانوی جنگی طیاروں کی طرف سے نشانہ بنائے جانے کے بعد حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے مفادات اور اہداف کو نشانہ بنانا حوثیوں کے لیے جائز اہداف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے یہ انتباہ جمعے کے روز جاری کیا ہے۔

جمعے کی رات کو امریکہ اور برطانیہ کے جنگی طیاروں نے جمعہ کی رات کو یمن کے اندر حوثیوں کےدرجنوں فوجی مراکز کو اپنی بمباری کی زد میں لیا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے یہ غیر معمولی فضائی حملہ امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کے مشرق وسطیٰ کے ایک ہفتے پر محیط اس دورے کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔ جس میں وہ خطے میں امن اور غزہ کی جنگ کا علاقے میں پھیلاؤ روکنے کی کوششوں کے لیے آئے تھے۔

ان درجنوں یمنی مقامات پر کی گئی بمباری کے ردعمل میں حوثی سپریم کونسل نے اپنے باضابطہ رد عمل میں کہا 'امریکہ اور برطانیہ کو یہ یقین نہیں رکھنا چاہیےکہ وہ ان حملوں کے بعد ہماری ہیروآنہ اور بہادری کی خو رکھنے والی افواج کی سزا سے بچ سکیں گے۔ '

سپریم کونسل کے بیان میں مزید کہا گیا ہے 'امریکہ اور برطانیہ کے مفادات ہمارے لیے جائز اہداف ہوں گے کہ ان دونوں ملکوں نے جمہوریہ یمن پر براہ راست حملہ کیا ہے۔'

واضح رہے حوثی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی طاقتوں کی درجنوں مقامات پر بمباری کے نتیجے میں پانچ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ حوثی بحیرہ احمر میں اپنے اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں