بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملے کی دھمکی، امریکا کے حوثیوں پر تازہ حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایران نواز حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر مزید حملوں کے انتباہ کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکہ نے ہفتے کے روز یمن میں حوثی باغیوں کے ایک ہدف پر تازہ حملہ کیا۔

حوثیوں کی ریڈار سائٹ پر یہ حملہ ملک بھر میں متعدد حملوں کے ایک دن بعد ہوا ہے جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ٹویٹر پر حملے کی تصدیق کی۔

پوسٹ میں لکھا گیا، "جنوری کو صبح 3:45 بجے (صنعاء کے وقت) امریکی افواج نے یمن میں حوثیوں کی ریڈار سائٹ پر حملہ کیا۔"

"یہ حملہ یو ایس ایس کارنی (ڈی ڈی جی 64) نے تاماہاک زمینی میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کیا تھا اور یہ 12 جنوری کے حملوں سے وابستہ ایک مخصوص فوجی ہدف پر فالو آن کارروائی تھی جو حوثیوں کی سمندری بشمول تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔"

"19 نومبر 2023 سے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے 28 بار بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں جہازوں پر حملہ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان غیر قانونی واقعات میں ایسے حملے شامل ہیں جن میں بحری جہاز شکن بیلسٹک میزائل، بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیاں اور کروز میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔"

"ان حملوں کا آپریشن پراسپرٹی گارڈین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ اس سے الگ ہیں۔ مذکورہ آپریشن بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں کام کرنے والے 20 سے زائد ممالک کا دفاعی اتحاد ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے سرکاری میڈیا نے قبل ازیں کہا تھا کہ یمن کے باغیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا میں الدیلمی ایئربیس پر حملہ کیا گیا تھا۔

حوثی جنہوں نے اسرائیل-حماس جنگ کے احتجاج میں اسرائیل سے منسلک جہاز رانی پر کئی ہفتوں سے حملے کیے ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی پہلی بوچھاڑؑ کے بعد امریکی اور برطانوی مفادات "جائز اہداف" تھے۔

برطانیہ، امریکہ اور آٹھ اتحادیوں نے کہا کہ جمعہ کو کیے گئے حملوں کا مقصد "تناؤ کی شدت میں کمی" کرنا تھا لیکن حوثیوں نے اپنے حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

باغیوں کی سپریم پولیٹیکل کونسل نے حملوں کے بعد کہا، "تمام امریکی-برطانوی مفادات جائز اہداف بن گئے ہیں۔"

باغیوں کے نائب وزیرِ خارجہ حسین العزی نے کہا، امریکہ اور برطانیہ کو "بھاری قیمت چکانے کے لیے تیار رہنا ہو گا"۔

باغیوں نے 2014 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے یمن کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ "محورِ مزاحمت" کا حصہ ہیں۔

اکتوبر کے اوائل میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یمن، لبنان، عراق اور شام میں ایران سے منسلک گروپوں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیریس کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ انہوں نے تمام فریقوں سے علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں "کشیدگی سے گریز کرنے" کا مطالبہ کیا۔

ایک قرارداد جس میں حوثیوں سے فوری طور پر بحری جہازوں پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، کی منظوری کے چند ہی دن بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو حملوں پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

اجلاس میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے خبردار کیا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرے سے کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں تھا۔

روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے ملک کی پوری آبادی کے خلاف "صریح مسلح جارحیت" کی مذمت کی۔

بحیرہ احمر کے حملے

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے بے مثال حملے سے غزہ جنگ شروع ہو گئی جس کے بعد سے حوثیوں نے بحیرۂ احمر - جہاں سے عموماً عالمی سمندری تجارت کا 12 فیصد گذرتا ہے - میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔

امریکی جنرل ڈگلس سمز نے پہلے کے اعداد و شمار میں تازہ اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے جمعہ کے روز حملے شروع کیے جن میں 150 سے زیادہ گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 30 مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہاں شہری ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔

بحیرۂ احمر کے "بے مثال" حملوں کے بعد بائیڈن نے امریکی حملوں کو ایک کامیاب "دفاعی کارروائی" قرار دیا اور کہا، اگر حوثیوں نے اپنا "اشتعال انگیز رویہ" جاری رکھا تو وہ دوبارہ کارروائی کریں گے۔

برطانوی وزیرِ اعظم رشی سنک نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی "مضبوط اشارے" کی ضمانت دیتی ہے۔ ان کی حکومت نے اپنی قانونی پوزیشن کو شائع کرتے ہوئے ان حملوں کو جائز اور "متناسب" قرار دیا ہے۔

لیکن ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ مغربی حملے غزہ سے توجہ ہٹاتے ہوئے "خطے میں عدم تحفظ اور عدم استحکام" کو ہوا دیں گے۔

سمز کے مطابق حوثیوں نے جمعہ کو جوابی کارروائی میں "کم از کم ایک" اینٹی شپ بیلسٹک میزائل داغا جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایم ایس این سی بی کو بتایا کہ کشیدگی میں اضافے کی کوئی وجہ نہیں۔ امریکہ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعہ نہیں چاہتا۔

شرقِ اوسط کے رہنماؤں نے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا جن میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے یمن پر حملوں کو غیر متناسب قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ بحیرۂ احمر کو خون کی ہولی میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔"

سعودی عرب نے کہا، وہ "بڑی تشویش کے ساتھ فوجی کارروائیاں دیکھ رہا ہے" اور "خود پر قابو پانے اور کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنے" کا مطالبہ کیا۔

حماس نے کہا کہ وہ "علاقائی سلامتی پر ہونے والے اثرات کا ذمہ دار" برطانیہ اور امریکہ کو قرار دے گا۔

اقتصادی لاگت

تیل کی قیمتیں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کی بنا پر چار فیصد بڑھ گئیں۔ پھر دوبارہ گر گئیں۔

نقل و حمل کی بڑی کمپنیوں نے سامانِ تجارت لے جانے والے بحری جہازوں کا رخ افریقہ کے سرے کی طرف تبدیل کر دیا ہے جس سے ایک ایسے وقت میں تجارتی روانی متأثر ہوئی ہے جب فراہمی میں تناؤ دباؤ ڈالتے ہوئے دنیا بھر میں افراطِ زر کو اوپر کی طرف لے جا رہا ہے۔

بحری ماہرین کے مطابق نومبر کے وسط سے بحیرۂ احمر سے گذرنے والے نقل و حمل کے کنٹینرز کے حجم میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

جمعہ کے روز ڈنمارک کی کمپنی ٹورم جنوبی بحیرۂ احمر کے ذریعے آمدورفت کو روکنے والی تازہ ترین ٹینکر فرم بن گئی۔

ایک بحری سیکورٹی رسک گروپ ڈریاد گلوبل نے اپنے مؤکلین کو حوثیوں کی جوابی کارروائی کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے بحیرۂ احمر کی کارروائیوں کو 72 گھنٹوں کے لیے معطل کرنے کا مشورہ دیا۔

امریکہ کی موت

اے ایف پی کے ایک صحافی نے رپورٹ کیا کہ لاکھوں لوگ جن میں سے کچھ کلاشنکوف اسالٹ رائفلیں اٹھائے ہوئے تھے، جمعہ کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ ان میں سے کئی لوگ یمنی اور فلسطینی پرچم لہرا رہے تھے اور حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔

انہوں نے "امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد" کے نعرے لگائے۔

اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے دیکھا کہ تہران میں سینکڑوں افراد نے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف ریلی نکالی، برطانیہ کے سفارت خانے کے باہر تینوں ممالک کے پرچم نذرِ آتش کیے اور غزہ اور یمنیوں کی حمایت میں آواز بلند کی۔

غزہ میں فلسطینیوں نے حوثیوں کی حمایت کو سراہا اور برطانیہ اور امریکہ کی مذمت کی۔

غزہ شہر پر اسرائیل کی بمباری سے بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں میں سے ایک فواد الغالینی نے کہا، "یمن کے سوا کوئی ہمارے ساتھ نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں