غزہ پر اسرائیلی جنگ کے 99 روز، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ، مواصلاتی لاک ڈاؤن پھر شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز بھی تباہ شدہ اور فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ غزہ میں یہ بمباری ایسے ماحول میں جاری ہے جب ہلاکتوں کی تعداد 24 ہزار کو چھو رہی ہے ، جنگ زدہ بھوکے ، پیاسے اور چھت کے بغیر بمباری کی زد میں فلسطینیوں کے لیے انٹرنیٹ کی سروس ایک بار پھر بند کر کے مواصلاتی لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ کے اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے بھر پور طریقے سے علاقے کے ایک ملک میں کود پڑنے سے کشیدگی کے پھیلنے کا خدشہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔

ادھر غزہ میں عینی شاہدین کا کہنا ہے اسرائیل نے غزہ میں تازہ بمباری صبح سویرے کی ہے۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی ' سے وابستہ ایک صحافی نے بتایا ہے بمباری غزہ کے جنوبی شہر خان یونس اور رفح کی طرف کی گئی ہے، یہ زیادہ پر ہجوم علاقے ہیں۔ بمباری کے بعد لوگوں کو شمالی غزہ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

واضح رہے جمعہ کے روز اس بمباری سے پہلے ہی 'پال ٹیل' نامی ٹیلی کام کمپنی نے غزہ میں انٹرنیٹ سروسز بن کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ ' ایکس ' پر اپنی پوسٹ میں ' پال ٹیل' نے لکھا تھا ' غزہ میں پھر انٹر نیٹ کا بلیک آؤٹ ہو گیا۔'

فلسطینی ہلال احمر نے اس مواصلاتی بندش کے بعد کہا ہے کہ بمباری کے بعد زخمیوں تک فوری پہنچننا مشکل ہو رہا ہے کہ اطلاعات کا فوری موصول ہونا مشکل ہو گیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک غزہ میں بچوں اور فلسطینی عورتوں سمیت کل ہلاک شدگان کی تعداد 23708 ہو گئی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے۔

غزہ کے ہسپتالوں کے لیے ادویات کی منظم بندش

اقوم متحدہ کے ادارے ' اوچھا ' کے غزہ کے لیے سربراہ کے مطابق ' اسرائیل مسلسل انسانی بنیادوں پرغزہ آنے والی امداد کو روک رہا ہے۔ خصوصاً شمالی غزہ کے لیے لائے جانے والے امدادی سامان کو منظم طریقے سے روکا جا رہا ہے۔

'اوچھا ' سربراہ اینڈریا ڈی ڈومینکو نے کہا ' اسرائیل کی طرف سے غزہ کے ہسپتالوں کے لیے آنےوالی امداد، ادویات اور طبی آلات کو انتہائی منظم طریقے سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ رکاوٹیں انسانیت کے خلاف کارروائیوں کی سطح کی کارروائیاں ہیں۔ '

واضح رہے اسرائیلی فوج کے ہسپتالوں کے خلاف اس سے پہلے بمباری کی خبریں بھی آتی رہی ہیں اور اب جب کہ اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے غزہ میں ادویات پہنچانے کی کوشش جاری ہے، فلسطینی زخمیوں تک ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات روکنے کی منظم کوشش چل رہی ہے۔

اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ کے وسطی علاقے میں ایندھن کی شدید قلت ہے ۔ نتیجتاً دیر البلاح کے الاقصیٰ ہسپتال کے جنریٹرز بھی بند ہو چکے ہیں۔

ہسپتال کے باہر ایک سوگوار فلسطینی شہری نے بہت دکھ بھرے لہجے میں کہا ' کیوں کوئی ہماری طرف توجہ نہیں کرتا ؟ کیوں ہر کوئی خاموش ہے؟ ہسپتال کے باہر لاشوں کے لیے سفید کفن موجود تھے اور ان کے ساتھ بڑی تعداد میں فلسطینی موجود تھے۔ یہ کفن تازہ بمباری سے ہونے والی ہلاکتوں کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔

اسی دوران جب اسرائیلی بمباری جاری ہے لیکن افنان اور مصطفیٰ کی رفح میں شادی کی تقریب ہوئی۔

وہ جنہیں اب شاید تباہ حالی کی زندگی گزارنا ہے۔ دولہے کے انکل ایمن شملخ نے کہا ۔ جس گھر میں انہیں رہنا تھا وہ تو تباہ ہو گیا ، یہ جنگ تو شاید ابھی چلتی رہے گی ۔ لیکن ہم نے سوچا ان کی شادی کر دی جائے۔ '

انکل شملخ نے مزید کہا ' ہم سب ایک ہی اندوہناک صورت حال سے گزر رہے ہیں لیکن ہم نے چاہا کہ زندگی کا سفر بھی آگے چلتا رہے۔ '

محمد جبریل دلہن کے والد ہیں کا کہنا تھا' انہیں اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس جنگ کے باوجود شادی کی یہ تقریب بھی جاری رہے گی۔ ' ان کا مزید کہنا تھا ' ہم موت کے اس ماحول کے باوجود زندگی سے محبت کرتے ہیں۔ یہ قتل عام اور تباہی خوفزدہ نہیں کرتا۔'

ادھر تل ابب میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کے روز بتاا ہے کہ قطر کے توسط سے حماس کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے لیے بات چیت چل رہی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیلی یرغمالیوں کو ادویات بھجوائی جا سکیں گی۔

اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کی طرف سے اسی ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ میں یرگمالیوں کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی یرغمالی زخمی اور کئی بیمار ہیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے کہ غزہ کے زخمیوں اور بیماروں کے لیے بھی معاہدہ کار گر ہو گا کہ نہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں