اسرائیلی عہدیدار نے غزہ کی سرحد کی ویڈیو جاری کرکے مصرکو کیا پیغام دیا ہے؟

کیا مصرغزہ کی ناکہ بندی میں شریک ہے۔ اسرائیلی حکام پروپیگنڈہ کیوں کررہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حالیہ عرصے کے دوران غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران غزہ کی ناکہ بندی کے حوالے سے مصر اور اسرائیل کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

اسرائیل نےسات اکتوبر سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کررکھی ہے جب کہ حالیہ ایام میں اسرائیلی عہدیداروں نےایسے متنازع بیانات دیے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصری حکام غزہ میں امداد داخل ہونے والے ٹرکوں کو روک رہے ہیں۔

غزہ کی پٹی کے کئی مہینوں تک جاری رہنے والے محاصرے کا الزام اپنے ملک کی حکومت سے ہٹانے کی کوشش میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایک مشیر نے ایک ویڈیو نشر کی جس میں غزہ اور مصر کے درمیان سرحد کو دکھایا گیا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم "X" پر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں حنانیا نفتالی نے مصر پر غزہ کی ناکہ بندی کا الزام لگانے کی کوشش کی۔ انہوں نے لکھا کہ "دُنیا اسرائیل پر غزہ کی ناکہ بندی کرنے کا الزام لگاتی ہے، مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد مصر کو بھی دیکھا جائے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ مصر اور اسرائیل دونوں نے حماس سے بچنے کے لیے دیواریں تعمیر کیں۔

رفح کراسنگ کھولنا

یہ اس وقت سامنے آیا جب 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے پہلے دن سے ہی مصر تل ابیب پر زور دے رہا ہے کہ وہ امداد کو پٹی میں داخل کرنے کی اجازت دے۔

اس نے غزہ میں امدادی بسوں کے داخلے کے لیے رفح کراسنگ کو کھولنے پر بھی اصرار کیا، لیکن اسرائیلی اقدامات نے ہر بار ان کے داخلے میں رکاوٹیں ڈالیں اور تاخیر کی۔

صلاح الدین محور

اس ویڈیو ایک ایسے وقت میں پوسٹ کی گئی ہے جب اسرائیلی حکام نے صلاح الدین محورپر اسرائیلی کنٹرول کی ضرورت کے بارے میں اپنے دعوے کی تجدید کی۔ اسرائیل اسے"فلاڈیلفیا ایکسس" کا نام دیتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے مصر سے مشورہ کرے گا۔

نیتن یاہو نے کل ہفتے کو کہا تھا کہ ان کے ملک نے ابھی تک غزہ اور مصر کی سرحد پر واقع اس راہداری پر اپنے فوجی کنٹرول کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں