فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر دفاع شدید برہم، نیتن یاھو پر چلا اٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے کے بعد سے اپنے 100ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف غزہ جنگ کے تسلسل اور اس حوالے سے جڑے کئی اہم معاملات پر جنگی کابینہ کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

گذشتہ روز[ہفتے] کو حکومتی اجلاس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلینٹ کے درمیان سخت گرما گرمی دیکھی گئی۔

عبرانی اخبار ’معاریو‘ کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہ نماؤں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی، جس نے گیلنٹ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔

آفس مینیجر

گیلینٹ اس وقت اجلاس سے نکل گئے ان کے آفس مینیجر کو داخلے سے منع کر دیا گیا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم کے دفتر نے اجلاس کے آغاز میں اصرار کیا کہ یہ معاونین کی موجودگی کے بغیر منعقد کیا جائے۔

ہیلیوی، نیتن یاہو، اور گیلنٹ
ہیلیوی، نیتن یاہو، اور گیلنٹ

لیکن جب گیلنٹ کو اپنے آفس مینیجر کو لانے کی اجازت نہیں دی گئی تو انہوں نے دیکھا کہ دوسرے اپنے معاونین کو اجلاس میں لے کر آئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اجلاس چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

با خبر ذرائع کے مطابق خاص طور پر قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین زاچی ہنیگبی اور دیگر کے معاونین نے بحث میں حصہ لیا۔

"میرے کام میں خلل ڈالنا بند کرو"

روانگی سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے نیتن یاہو کی طرف مڑ کر دیکھا اور چلائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کام میں رکاوٹ ڈالنا بند کرو۔

اسرائیلی وزیردفاع یواو گیلنٹ
اسرائیلی وزیردفاع یواو گیلنٹ

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیراعظم اور وزیر دفاع کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے قیدیوں غزہ کی انتظامیہ اور دیگر کئی معاملات پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

نیتن یاہو کے دفترنے بھی کئی بار چیف آف اسٹاف کے لیے داخلے کے اجازت نامے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔اس پرگیلینٹ ناراض ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں