امریکی- برطانوی حملوں نے حوثیوں کی 30 فیصد جنگی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے کل ہفتے کے روز امریکی انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مغربی اتحاد کی طرف سے حوثیوں کے خلاف شروع کیے گئے حملوں کے نتیجے میں ان کی جارحانہ صلاحیتوں میں 30 فیصد سے زیادہ کو تباہ کردیا گیا ہے۔

اخبار نے کہا کہ "150 سے زیادہ گائیڈڈ میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونوں کے لیے ذخیرہ کرنے اور لانچنگ سائٹس کی شکل میں 60 سے زیادہ اہداف پر حملہ کرنے کے بعد حوثیوں کی جارحانہ صلاحیتوں میں سے صرف 20 فی صد سے 30 فیصد کو نقصان پہنچا یا تباہ کیا گیا"۔

اس نے کہا کہ حوثیوں کے زیادہ تر ہتھیار "موبائل پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں اور آسانی سے منتقل کیے یا چھپائے جا سکتے ہیں۔"

اخبار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اہداف تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ حالیہ برسوں میں انہوں نے حوثی ڈرونز اور گولہ بارود کے لیے کمانڈ سینٹرز، اسٹوریج اور پروڈکشن سائٹس کا پتہ لگانے کے لیے اہم وسائل مختص نہیں کیے تھے۔

بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے حوثی گروپ کے خلاف آپریشن میں یمن میں اڈوں پر دوبارہ امریکی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

حوثیوں کی صفوں کے اندر دو سکیورٹی اور فوجی ذرائع کے مطابق ہفتے کی سہ پہر ایک نئے حملے نے مغربی یمن کے الحدیدہ میں ایک حوثی فوجی مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں انہوں نے حیرہ احمر کی طرف میزائل داغے۔

الحدیدہ میں حوثی باغیوں کے وفادار ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے ’اے ایف پی‘ بتایا کہ "وہ جگہ جہاں سے تھوڑی دیر قبل حوثیوں کا میزائل داغا گیا تھا وہ حدیدہ شہرکے مضافات میں بحیرہ احمر کی طرف مارا گیا تھا۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ بمباری سمندر سے تھی یا کسی اور طرف سے کی گئی تھی۔ حدیدہ پولیس کے ایک سکیورٹی ذریعے نےاس حملے کی تصدیق کی۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ہفتے کی صبح صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کی حفاظت کے وعدے کے بعد امریکا نے یمنی حوثی فورسز کے خلاف ایک نیا حملہ کیا۔

امریکا کا کہنا تھا کہ ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے اتحادی گروپ کی تنصیبات کو درجنوں امریکی اور برطانوی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے "ایکس" ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کارنی نے بعد کے حملے میں ٹوماہاک میزائل کا استعمال کیا تھا۔

امریکی حملوں کے جواب میں یمن میں حوثی کے ترجمان محمد عبدالسلام نے رائٹرز کو بتایا کہ ان حملوں کا، جن میں سے تازہ ترین حملہ صنعا میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا کہ تاہم ان سے کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں