صلاح الدین محور پر قبضہ، اسرائیل غزہ کو اسلحے سے پاک کرنا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پچھلے چند ہفتوں سے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان صلاح الدین سرحدی محور کا نام میڈیا میں بار بار آیا ہے، خاص طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت کے بارے میں موقف سامنے آنے کے بعد صلاح الدین محور اور فلاڈیلفیا کا ذکر بار بار ہوتا رہا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی تفصیلات کے مطابق غزہ اور مصر کے درمیان واقع 14 کلومیٹر طویل اس پٹی پر اسرائیل اپنا فوجی کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے مگر اسرائیل کے لیے ایک مشکل یہ ہے کہ ایسا کرنا اسرائیل اور مصر کے درمیان تاریخی کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

پلان کی تفصیلات

مصرکی جانب سے صلاح الدین محور پر مشترکہ کنٹرول سے متعلق اسرائیلی دعووں کو مسترد کرنے کے باوجود اسرائیل جنوبی غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی پٹی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسے "فلاڈیلفیا ایکسس" یا "صلاح الدین محور" کہا جاتا ہے۔ دو دہائیاں پیشتر اس علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول تھا مگر غزہ سے اسرائیل کے فوجی انخلاء کے بعد یہ علاقہ فلسطینیوں کے کنٹرول میں رہا ہے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق حماس کو غزہ کی پٹی میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے روکنے کے لیے اسرائیل فلاڈیلفیا محور کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں کو شکست دینے کے بعد آئندہ کی غزہ کی پٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔

اخبارکے مطابق اسرائیلی حکام نے مزید کہا ہے کہ اس آپریشن میں ممکنہ طور پر رفح کراسنگ سے فلسطینی اہلکاروں کو ہٹانا بھی شامل ہو گا، تاکہ غزہ کی پٹی کے جنوب مشرقی کونے سے دونوں سرحدوں سے متصل علاقے میں اسرائیلی فورسز کو ان کی جگہ پر تعینات کیا جائے۔ اس طرح غزہ کے شمال مغرب میں بحیرہ روم کے ساتھ واقع 14 کلومیٹر پٹی پراسرائیل اور مصر کا کنٹرول ہونا چاہیے۔

اسرائیلی حکام مصری سرحد کے قریب فلاڈیلفیا کے محور پر فوجی آپریشن کی تیاری کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رفح بارڈر کراسنگ پر فلسطینیوں کا کنٹرول ختم کرنا غزہ کے مستقبل کے لیے اسرائیل کے وژن کا ایک لازمی حصہ ہے۔

اخبار کے مطابق محدود طاقتوں کے ساتھ ایک غیر مسلح فلسطینی ادارہ حماس کی جگہ لے گا اور پٹی میں سول امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر انکشاف کیا کہ اسرائیل طویل مدت میں غزہ کے لیے ذمہ دار نہیں رہنا چاہتا، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس بات کو کیسے یقینی بنائیں گے کہ غزہ آئندہ کے لیے ایک غیر مسلح علاقہ رہے گا؟ یہ ایک حقیقی مخمصہ ہے۔

اس لیے اس کا خیال تھا کہ کسی جغرافیائی علاقے کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ غزہ میں آنے اور جانے والی ہر چیز کا اسرائیل کو علم ہو۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت اور نزدیکی مدت میں اسرائیل کو سلامتی کے مسائل کی وجہ سے آنے والی دہائیوں کے دوران سرحدوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

گرین سگنل

یہ امر قابل ذکر ہے کہ تل ابیب نے سرحد پر آپریشن کے لیے حتمی گرین سگنل نہیں دیا۔ امریکی اخبار کے مطابق عمل درآمد کا وقت مصری حکومت کے ساتھ مذاکرات پر منحصر ہوگا۔

جب کہ مصر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیلی کارروائی دونوں ممالک کے درمیان 1979 میں طے پانے والے امن معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس معاہدےکے تحت خطے میں سرحد کے قریب دونوں ممالک کی افواج کی تعیناتی پر پابندی ہے۔

جہاں تک فلاڈیلفیا ایکسس جسے "صلاح الدین محور" بھی کہا جاتا کا تعلق ہے، یہ غزہ اور مصر کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ یہ مصر اور اسرائیل کے درمیان 1979ء میں طے پائے "کیمپ ڈیوڈ" امن معاہدے کے تحت بفر زون کے اندر واقع ہے اور اس کی لمبائی 14 کلومیٹر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں