امریکی اہلکار کی حوثیوں کے ٹھکانوں پر نئے حملے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک امریکی فوجی اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اتوار کے روز مغربی یمن میں حدیدہ کی بندرگاہ پر کوئی حملہ نہیں کیا۔

اہلکاراپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ "آج کوئی امریکی یا اتحادی حملہ نہیں کیا گیا" حوثی میڈیا کی رپورٹ کے بعد اتوار کو الحدیدہ گورنری کو نئے امریکی اور برطانوی حملےکئے گئے تھے۔

حوثی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ نئے امریکی اور برطانوی حملوں نے مغربی یمن کے شہر حدیدہ کو نشانہ بنایا۔

حوثی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکی-برطانوی طیاروں نے الحدیدہ کے ضلع اللحیہ میں جبل جدع کو نشانہ بنایا۔

"یہ آخری نہیں ہو گا"

امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سیموئیل واربرگ نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ "یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر مزید حملے کیے جائیں گےاور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے"۔ یہ حملے حوثیوں کے لیے ایک پیغام ہیں۔تاکہ ان کے حملوں کو فوری طور پر روکا جا سکے‘‘۔

60 حوثی اہداف

گذشتہ دو دنوں کے دوران امریکی- برطانوی حملوں نے 6 یمنی گورنریوں میں 60 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں حوثی فوجی ذخیرہ کرنے کی جگہوں کے ساتھ ساتھ ریڈار سائٹس اور ڈرون اور میزائلوں کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

جبکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہےمگرابھی تک کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

حوثیوں کے جوابی حملے کا امکان

بہت سے ماہرین توقع کرتے ہیں کہ خطہ، خاص طور پر بحیرہ احمر حوثیوں کے مزید حملوں کا نشانہ بنےگا جو تجارتی بحری جہازوں اور ممکنہ طور پر اس جگہ موجود امریکی بحری جہازوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جنہوں نے گذشتہ جمعہ اور ہفتہ کو حملوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 19 نومبر (2023) سے 7 اکتوبر کو غزہ میں اسرائیل-فلسطین جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر 27 سے زائد حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ وہ غزہ میں جاری جنگ روکنےکے لیے اسرائیلی شپنگ لائن پر حملے کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں