بحیرہ احمر اور عراق میں حملے جاری رہیں گے: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حالیہ مغربی حملوں کے بعد لبنانی حزب اللہ کے رہ نما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

یمن، عراق، شام اور لبنان

انہوں نے اتوار کے روز مقامی لبنانی میڈیا کی طرف سے رپورٹ کی گئی ایک تقریر میں مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن غلط فہمی میں ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حالیہ حملوں سے حوثی حملے رک جائیں گے تو ان کی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اسرائیل ناکامی سے دوچار ہے اور ایک گہری کھائی میں گر رہا ہے۔ اس کے تجزیہ کار تصدیق کرتے ہیں کہ جنگ میں اسرائیل کو شکست فاش کا سامنا ہے۔ غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن سے قبل تل ابیب کے طے کردہ اہداف کے اسے حاصل نہیں ہوئے۔ اس کا مقصد حماس کو سیاسی اور عسکری طور پر ختم کرنا اور قیدیوں کو واپس کرنا تھا۔ مگر اسرائیلی ریاست ابھی تک اس میں بری طرح ناکام ہے۔

انہوں نے کہا کہ"اسرائیلی نقصانات پریشان کن ہیں، خاص طور پر جب تل ابیب نے 100 دنوں کے اندر اسرائیلی فوج کی صفوں میں 4,000 مستقل زخمیوں کا اعلان کیا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ تعداد 30,000 تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے یمن، عراق، شام اور لبنان سے حملوں کو روکنے کو بھی غزہ پر اسرائیلی جنگ کو روکنے سے منسلک کیا۔

حسن نصراللہ کی تقریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں گذشتہ جمعہ کو امریکا اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر حوثیوں کے 60 سے زیادہ ٹھکانوں کو گائیڈڈ ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر انہیں تباہ کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں