ترکیہ احسان فراموش اور حماس کا انتظامی بازو ہے:اسرائیل کا ترک حکومت کو پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی حکومت نے ترکیہ میں ایک اسرائیلی کھلاڑی کی گرفتاری کے بعد تل ابیب نے انقرہ سے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے ترک حکومت کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے حماس کا ’انتظامی بازو‘ قرار دیا۔

انہوں نے ترکیہ کو یاد دلایا کہ پچھلے سال فروری میں آنے والے زلزے میں اسرائیل نے کس طرح ترکیہ کو فوری مدد فراہم کی تھی مگر انقرہ نے اس کا جواب احسان فراموشی میں دیا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ میں ایک اسرائیلی کھلاڑی کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انٹالیاسپور کلب سے وابستہ اسرائیلی کھلاڑی ’ ساگیو جیزکل‘ کی طرف سے شروع کی گئی تحریک کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔

"حماس کا بازو"

کلب کی جانب سے اس کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کے بعد اس واقعے پر افسوس اور صدمے کا اظہار کیا گیا اور ترک حکام نے کھلاڑی سے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تو اسرائیلی ردعمل سامنے آیا ہے۔

ترکیہ میں پریمیئر لیگ کے ایک میچ کے دوران انطالیہ میں پولیس کے ہاتھوں اسرائیلی کھلاڑی کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلانٹ نے پیر کو ترکیہ پر الزام لگایا کہ وہ "حقیقت میں حماس تحریک کا ایگزیکٹو بازو" ہے۔

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں گیلینٹ نے ترکیہ کو اسرائیل کی جانب سے پچھلے سال کے زلزلے کے بعد فراہم کی جانے والی فوری مدد کا احسان یاد دلایا۔

وزیر دفاع نے کھلاڑی ساگیو جیزکل کے ساتھ سلوک کو "منافقت اور ناشکری" قرار دیا۔

اسرائیل کا ردعمل اسرائیلی فٹ بال کھلاڑی ساگیو جیزکل کے جشن منانے کے بعد سامنے آیا جب انٹیلیاسپور نے اپنی ٹیم کے میچ میں ترابزونسپور کے خلاف گول کرنے کے بعد ترکیہ میں غم و غصے کو جنم دیا جس کے بعد انطالیہ اسٹیٹ پراسیکیوٹر کے دفتر نےاس کے خلاف کارروائی کی۔

ترک وزیر انصاف یلماز ٹونک کے اعلان کے مطابق ترک حکام نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کی حمایت میں اس کے اقدامات کی وجہ سے کھلاڑی کے خلاف عدالتی تحقیقات کا آغاز کیا۔

اس دوران ان کے کلب نے کھلاڑی کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

کھلاڑی کی جیت کے بعد تنازع

ترکیہ میں کھیل کے دوران ایک اسرائیلی فٹبالر کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب اس نے اچانک غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اس نے 'ٹاپ فلائٹ لیگ گیم' کے دوران یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور ان سے اظہار یکجہتی کی۔ جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔

وزیر انصاف یلماس ٹنک نے اتوار کو دیر گئے بتایا کہ اس حراست میں لیے گئے کھلاڑی سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس نے بین الاقوامی عوام کو کھلے عام نفرت اور دشمنی پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔

وزیر انصاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کھلاڑی کا کھیل کے دوران اس طرح بولنا غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی حمایت میں ایک بدنما اشارے کے طور پر سمجھا گیا ہے۔

اسرائیلی کھلاڑی نے کھیل کے دوران گول کرنے کے بعد اپنی کلائی کے گرد ایک پٹی دکھائی جس یرغمالیوں کے سو دن مکمل ہونے کا لھا ہوا تھا۔

ترکیہ میں کھڑے ہو کر اسرائیل کی اس طرح حمایت کرنے پر اشتعال محسوس کیا گیا ہے۔ جہاں فلسطینیوں کی زبردست حمایت پائی جاتی ہے۔ ترکیہ کے لوگ ان 100 دنوں کے دوران 24 ہزار فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو اہم سمجھتے ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فٹبال کلب نے اس اسرائیلی فٹبالر کی کلب رکنیت معطل کر دی ہے اور اپنے وکلا کے مشورے سے کلب کا اس کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم کرنے کا مشورہ شروع کر دیا ہے۔

ترکیہ کی فٹبال فیڈریشن نے بھی اس کھلاڑی کا ترکیہ میں اس طرح اسرائیلی جنگ کی حمایت کوترک عوام کے ضمیر کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ ترکیہ حکومت کو اس کھلاڑی کی حراست پر شرم آنی چاہیے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل میں اس گرفتاری پر کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں