فلسطین اسرائیل تنازع

سابق اسرائیلی عہدیدار کا فلسطینی اسیر رہ نما مروان البرغوثی کی رہائی کا مطالبہ

مروان البرغوثی فلسطینیوں میں مقبول لیڈرہیں، حماس کو ختم کرنے کا خیال غیرحقیقی لگتا ہے: ریٹائرڈ ایڈمرل عامی ایالون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے ایک سابق سینیر سکیورٹی اہلکار نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طویل عرصےسے جیل میں قید تحریک فتح کے سرکردہ رہ نما مروان البرغوثی کو رہا کردے۔

یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب اسرائیلی حکومت اور غزہ میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ 101 دن میں جاری ہے مگر فی الحال قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسرائیلی داخلی سلامتی سروس کے ایک سابق کمانڈرشن بیٹ نے اپنے ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید سب سے پرانے فلسطینی قیدیوں میں سے ایک مروان برغوثی کو رہا کرے۔

"برغوثی اسماعیل ھنیہ کو شکست دے سکتے ہیں‘‘

ریٹائرڈ ایڈمرل عامی ایالون جنہوں نے اسرائیلی بحریہ کی کمانڈ بھی کی اور کئی اعزازات حاصل کیے نے اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ دوسری انتفاضہ کے رہ نما برغوثی کو رہا کریں، جو تقریباً 22 سال سے قید ہیں تاکہ فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے لیے براہ راست مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری انتفاضہ کی قیادت کرنے کے بعد قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے تحریک فتح کے رہ نما کی رہائی بامعنی مذاکرات کی جانب ایک اہم قدم ہو گی۔ خاص طور پر چونکہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شکست دے سکتے ہیں۔

اسرائیلی بمباری سے فرار ہونے والے بے گھر فلسطینی
اسرائیلی بمباری سے فرار ہونے والے بے گھر فلسطینی

انہوں نے اس شخص کو فلسطینی حکومت قائم کرنے کے لیے مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دو طرفہ حل پر یقین رکھتا ہے اور اسے عوام میں مقبولیت بھی حاصل ہے۔

’گارڈین‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک اس وقت تک سلامتی سے لطف اندوز نہیں ہو گا جب تک فلسطینیوں کو اپنی ریاست نہیں مل جاتی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کسی بھی فرد یا گروہ کو روک نہیں سکتے اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ غزہ میں جنگ حماس کے 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کے فوراً بعد شروع ہوئی تھی۔ حماس تمام فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس حقیقت کا زیادہ تر اسرائیلیوں کو احساس نہیں ہے۔

جہاں تک حماس کو ختم کرنے کا تعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ مقصد کسی حد تک غیر حقیقی لگتا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ حماس کو ختم کرنے سے پہلے جنگ نہیں رکے گی۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 23 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں