قطیف میں صدیوں پرانے گھروں کی باقیات میں گذرے وقتوں کے فن تعمیرکی جھلک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

مشرقی سعودی عرب میں واقع قطیف گورنری کے آثار قدیمہ کےمقامات میں کچھ ایسے مکانات کی باقیات آج بھی موجود ہیں جن کی عمر 400 سال سے زیادہ ہے۔ ان کے تعمیراتی عناصر اسلامی فن تعمیر کے اسلوب کا حصہ ہیں، لیکن تعمیر کا انداز قطیف کی ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔

اس آرکیٹیکچرل آرٹ کے ذریعہ اسلامی معاشروں کا اثر ماحول کے ہم آہنگی اور تجارتی تحریک کے نتیجے میں آتا ہے جس نے کچھ تعمیراتی اسلوب اور سجاوٹ کوقطیف منتقل کیا۔ قطیف نے بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر کے درمیان اس تجارتی تحریک کے درمیان ایک اسٹریٹجک مقام کے طور پر اپنی اہمیت کا ثبوت پیش کیا۔ دوسری طرف تجارتی قافلوں کے راستوں پر ہونے کی وجہ سے قطیف کےفن تعمیر میں قدیم فنون کو اپنایا۔

ثقافتی ورثہ اور فنون تعمیر کے محقق "اسماعیل ھجلس" نے عرب معاشروں کے درمیان گھروں کی سجاوٹ میں آرکیٹیکچرل ثقافت کی منتقلی کی خوبصورتی پر ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ قطیفی کمیونٹی کی طرف سے پرانے فن تعمیر کی دیکھ بھال کے ساتھ اس فن کو دوسرے لوگوں تک منتقل کیا گیا۔ ان فنون کو قدیم مکانات کو سجانے والے نوشتہ جات اور سجاوٹ طریقوں، ہندسی حسابات اور مخصوص اونچائیوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مٹی کے گھروں کو کیا چیز ممتاز کرتی ہے؟

قطیف کے قدیم گھروں کو قطیف کے مستند زرعی ماحول سے حاصل کردہ سجاوٹ کی اقسام سے پہچانا جاتا تھا جو ان میں سے ہر ایک کے لیے مخصوص ناموں سے جانے جاتے ہیں۔ جیسے بادام، مروحیہ ، الشجریہ، ورقیہ، موزیہ اور بیدانہ نام دیے گئے تھے۔

ان گھروں میں پائے جانے والے پلاسٹر کی سجاوٹ پلاسٹر یا سمندری پتھر "فروش" سے بنی ہوتی جو کام کرنے میں آسان مواد سمجھا جاتا تھا۔

قطیف شہر خلیجی ممالک کے وسط میں ایک نخلستان کے میں واقع ہونے کی بہ دولت ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ بحیرہ عرب سے باہر کے ممالک اور الاحساء جیسے اندرونی علاقوں نجد اور مغربی علاقوں کے درمیان رابطے کا ایک سنگم تھا۔ اس لیے قطیف مختلف ثقافتوں کا آئینہ دار رہا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "سب سے اہم چیز جو قطیف ہاؤس کو ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس پرانے مکانوں کو قطیفی خاندان عمودی شکل میں تیار کرتے تاکہ ان کے مکینوں کو سکون، رازداری اور تحفظ حاصل رہے۔

یہ شکل ان کے لیے منفرد تھی۔ قطیف اور خلیجی ممالک میں پرانے گھروں میں "صحن" بنایا جاتا تھا۔ صحن آسمان کی طرف کھلا ہوتا اور عام طور پر گھر کے وسط میں صحن رکھا جاتا۔ یہ عنصر رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھے جاتے۔ گھر کے باہر کی دیواریں اونچی رکھی جاتیں۔ گراؤنڈ فلور میں رازداری کی خاطر کھڑکیاں شامل نہیں ہوتی تھیں۔ آج ان گھروں کی باقیات کو دیکھیں توپتا چلتا ہے کہ گھروں کے درمیان کی گلیاں تنگ ہیں اور اسے "زرنوک" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کھڑکی کی جگہ "روشن دانوں" نے لے لی جو کہ وینٹیلیشن کے لیے کھلے راستے کے طورپربھی استعمال ہوتے تھے۔ ان میں ایک عالیشان کمرہ ضرور ہوتا تھا جو دیوار اور چھت کے درمیان واقع ہوتا۔

ان مکانات کی تعمیرمیں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "قطیفی ہاؤس‘‘ میں تعمیراتی مواد ایک ہی ماحول سے اخذ کیا گیا تھا۔ یہ مواد سمندری پتھروں (فروش) اور مٹی پر مشتمل ہوتا تھا، جو علاقے کے موسم کے مطابق مکانوں کی تعمیر کے لیے مفید تھے۔ قطیفی ہاؤس کو دن کے وقت ٹھنڈا اور اعتدال پسند بنایا جاتا۔ اس کے لیے گھروں کی دیواریں موٹی رکھی جاتیں۔ موٹائی گھر میں گرمی کو داخل ہونے کو روکتی۔ اس کے علاوہ صحن گھروں کے اندر ہوا کے داخلے کے لیے ایک ذریعہ ہوتا۔

بیت جشی

ھجلس نے الجشی ہاؤس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قطیف گورنری کے سب سے بڑے اور باوقار تاریخی مکانات میں سے ایک کو ’جشی ہاؤس‘ قرار دیا جاتا تھا۔ شاید اس طرح کے گھر اس دور کے امراء کے ہوتے تھے۔ یہ 400 سال سے زیادہ پرانے ہیں۔ یہ پانچ منزلوں پر مشتمل ہیں، جس میں کئی خاندان رہتے تھے۔ ہر خاندان کے پاس گھر کا ایک حصہ ہوتا ہے، جہاں اپارٹمنٹس گھر کے بیچوں بیچ ایک بڑے صحن میں ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "الجشی ہاؤس‘‘ کو اکیسویں صدی کے آغاز تک کسی نا کسی شکل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

یہ مکانات جزیرہ تاروت واقع ہیں۔ انہیں دیرہ گھر کا نام دیا جاتا تھا۔ اس سے مراد علاقے کی قدیم ترین آباد جگہ ہے۔ الجشی ہاؤس کو اس زمانے میں محلات کی سطح پر سمجھا جاتا ہے۔ الجشی خاندان کی ابتدا قطیف قلعہ سے ہوئی اور ان کا تعلق "طواشین" ہیروں کے تاجروں سے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "الجشی ہاؤس میں قرآن کی آیات کے ساتھ نوشتہ جات، پھولوں کی سجاوٹ، ہندسی سجاوٹ، اور پانی کے چھڑکاؤ اور بخور کی شکل میں سجاوٹ شامل ہے۔ گھر میں بہت سی محرابیں ہیں جو عمارت کی خوبصورتی کو ظاہر کرتی ہیں۔ پانچوں خاندان ایک مشترکہ مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہیں۔ یہ ایک کشادہ گیٹ ہوتا تھا۔ رہائش گاہ کی چھت کھجور کے جھنڈ سے بنائی جاتی ہے۔ اندرونی سیڑھیاں سرپل کی شکل میں تیار کی گئی تھیں۔ رہائش میں ایک داخلی دروازہ بھی شامل تھا۔

اسی طرف ان محلات میں ’’رکوا‘‘ عموماً نہانے اور کپڑے اور برتن دھونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی سطح زمین کے برابر ہے اور بارش کا پانی جمع کرنے کی جگہ ہے۔ یہ 15 میٹر گہرا کنواں ہے جبکہ کم معیار زندگی کے حامل افراد اس مقصد کے لیے چشموں اور آبی گذرگاہوں پر جاتے ہیں۔

قطیفی ہاؤس

بیت قطیفی کی تفصیلات کے بارے میں اسماعیل ھجلس نے بتایا کہ ماضی میں لوگ دروازے بنانے کے لیے بعض اوقات ہندوستان سے کچھ لکڑیاں منگواتے تھے جو کہ نقش و نگار، تانبے اور بڑھئی کے ہاتھوں تیار کی گئی ہوتی تھیں۔ یہ قطیف میں قدیم دستکاری کی علامتیں ہیں۔ جب کہ سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی علاقوں کو چھوڑ کر اس خطے میں رنگین دروازے 90 سال سے متعارف کرائے جا رہے ہیں جہاں قدیم گھروں کے دروازوں کے اصل رنگ اسی ماحول سے اخذ کیے گئے ہیں۔ جب کہ قطیف کے لوگ نیلے، فیروزی اور سبز رنگوں کو متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

ھجلس نےبتایا کہ قطیف کے گھر کو قطیف کے ماحول اور اس کے ورثے کی شناخت سے ماخوذ سجاوٹ سے مزین کیا گیا ہے۔ سجاوٹ کو متعدد شکلوں میں ملایا گیا ہے۔ انہیں ڈرائنگ انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ ہاتھ سے بنی دستکاری ہے اور ریڈی میڈ ٹیمپلیٹس نہیں۔ اس لیے وہ ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ان گھروں میں مخملی کمروں کی ساخت، چھت پر "شندل" کا اضافہ کیا۔ اسے ایک نیا مواد سمجھا جاتا ہے جو افریقی ملک تنزانیہ سے لیا گیا تھا۔ اسے گھر کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ستون کے طور پر استعمال کیا جاتا۔ یہ تین سے چار میٹر لمبا ہوتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں