فلسطین اسرائیل تنازع

قیدی، قتل غارت اور اربوں ڈالرکا نقصان،غزہ جنگ اسرائیل کے لیے بوجھ بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں گذشتہ سات اکتوبر کوشروع ہونے والی جنگ نہ صرف فلسطینیوں بلکہ خود اسرائیل کے لیے بھی ایک بھاری بوجھ بن چکی ہے۔

اسرائیل میں 2024 کے بجٹ کے ایک نظرثانی شدہ مسودے سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.25 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد ہونے کی توقع ہے۔

مسودہ جس پر آج پیر کو ووٹنگ متوقع ہے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ نے گذشتہ سال 1.4 فیصد پوائنٹس کے متوقع نقصانات کے بعد موجودہ سال کے لیے اقتصادی ترقی میں 1.1 فیصد پوائنٹس کی کمی کا باعث بنی ہے۔

جبکہ جنگ کے مالی اثرات کا تخمینہ 2023-2024 کی مدت میں تقریباً 150 بلین شیکل (40.25 ارب ڈالر) لگایا گیا ہے۔ اسرائیل کو توقع ہے کہ یہ جنگ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ختم ہوجائے گی۔

لیکن اگر یہ جنگ توقع سے زیادہ ہے طول پکڑتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نقصانات بہت زیادہ ہوں گے۔

تاہم یہ جنگ اسرائیل کے لیے مالی بوجھ ہی نہیں بلکہ یہ جانی نقصانات کا باعث بن رہی ہے۔اس کے علاوہ 132 اسرائیلی یرغمالی اب بھی غزہ میں قید میں ہیں۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مقبولیت میں بھی ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے جب کہ حکومت کی طرف سے غزہ جنگ کے لیے تشکیل دی گئی وار کیبنٹ میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔

اس کے علاوہ، ملک میں بہت سے نفسیاتی کلینک مریضوں سے بھرے ہوئے تھے، چاہے وہ فوج کے ہوں یا دوسرے، اس کے مطابق جو اسرائیلی میڈیا نے پہلے رپورٹ کیا تھا۔

اسی طرح اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کرنے کے الزام کا سامنا ہے، اگرچہ اس عدالت کے فیصلوں کا کوئی انتظامی اثر نہیں ہوتا عالمی سطح پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے اسرائیل کی اخلاقی ساکھ متاثر ہوسکتا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی فوج
غزہ میں اسرائیلی فوج

ان سب کے علاوہ غیرسرکاری اندازوں کے مطابق اسرائیلی افواج کے نقصانات کی تعداد تقریباً 500 تھی۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ، لبنان اور شام سے اسرائیلی علاقوں کی جانب 11 ہزار سے زائد راکٹ داغے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے گذرے ہیں۔ انہیں بھاری قیمت چکانا پڑی۔ اس جنگ میں اب تک 24 ہزار سے زاید فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں زیادہ تربچے اورخواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں