فلسطین اسرائیل تنازع

مغربی کنارے کے فلسطینیوں نے اسرائیلی حملوں میں اضافہ وحشیانہ انتقام قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مغربی کنارے میں طولکرم شہر کے پناہ گزین کیمپ نور الشمس پر اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد فلسطینی جنگجو ارد گرد گھوم رہے ہیں اور راہ گیروں کو اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے اثرات دکھا رہے ہیں اور ان ملبے کے ڈھیروں پر خوش آمدید کہہ رہے ہیں جو اسرائیلی حملے سے پہلے فلسطینی خاندانوں کے گھر تھے۔

طولکرم میں بنیادی طور پر دو پناہ گزین کیمپ قائم ہیں۔ اسرائیلی فوج ان پناہ گزین کیمپوں کو فلسطینیوں کے مضبوط گڑھ سمجھتے ہوئے انہیں اپنے حملوں کی زد پر رکھتی ہے۔

سات اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری جنگ سے پہلے بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے ایک معمول تھے تاہم سات اکتوبر کے بعد مزید شدت سے حملے کیے جارہے ہیں۔ اب تک مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی 343 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق وہ عام طور پر رات کے وقت کارروائیاں کرتی ہے تاکہ ان فلسطینی نوجوانوں کو قابو کر سکے جنہیں اسرائیلی فوج جنگجو سمجھتی ہے یا اسے خدشہ ہوتا ہے کہ یہ کل اس کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں اسرائیلی فوج سات اکتوبر 2023 سے اب تک 700 سے زیادہ حملے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں کر چکی ہے۔ نور الشمس پناہ گزین کیمپ پر موجود فلسطینی جنگجو جو کیمپ پر اسرائیلی فوج کی تازہ تباہی کے بعد نظر آنے لگے ہیں تاکہ کیمپ کے مکینوں کا تحفظ کر سکیں۔

ایک 23 سالہ فلسطینی نے کہا ' کیمپ پر اسرائیلی حملے اس کے انتقامی وحشیانہ پن اور بوکھلاہٹ کے سبب ہیں۔ کیونکہ سات اکتوبر کو جو کچھ ہوا اسرائیلی فوج کو اس کی سمجھ ہی نہ آ سکی تھی۔

' اے ایف پی ' کے مطابق یہ 23 سالہ نوجوان اب طولکرم بریگیڈ کا حصہ ہے اور باقاعدہ جنگجو بن چکا ہے۔ یہ مسلح فلسطینی گروپ ایک دوسرے کے ساتھ جرے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے پچھلے ساڑھے تین ماہ کے دوران طولکرم میں آٹھ حملے کیے ہیں۔ گویا طولکرم میں رہنے والے فلسطینی بھی اسرائیلی فوج کے مسلسل نشانے پر ہیں۔ 20 اکتوبر کو ایسے ہی ایک حملے کے دوران اسرائیلی فوج نے ایک سرحدی محافظ کی ہلاکت کا اعلان بھی کیا تھا۔

جو جھڑپ میں فلسطینیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ جبکہ 'اے ایف پی' کے ہی مطابق طولکرم میں کم از کم 35 فلسطینی ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

گھر الٹا کر ملبہ بنا دیے

طولکرم مغرب کنارے کے شمال میں واقع ہے اس لیے اسرائیل سے جڑی سرحد پر ہے۔ 'اے ایف پی' نے طولکرم کے نوجوانوں کو اسرائیل کے بڑھے حملوں کے بعد اب جنگجووں کی شکل میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ انہی میں ایک 26 سالہ فلسطینی جنگجو ملبے کے ڈھیروں کے بیچوں بیچ سے اپنی گاڑی پر آتے ہوئے دیکھا ۔

اس نے کہا ' اب ہیں کوئی چیز روک نہیں سکتی، بریگیڈ کی حمایت ہر طرف پھیل گئی ہے۔ اب یہ کیمپ بھی ایک بٹالین سمجھیں۔ ہم متحد ہیں۔ یہ نوجوان اور عاصوم دونوں اسرائیلی قید میں بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اسرائیلی قبضہ ختم ہونا چاہیے ، ہم آزادی چاہتے ہیں۔

26 دسمبر کو اسرائیلی ایک فلسطینی کے گھر کو تباہ کر رہی تھی ، اس کا کہنا تھا کہ اس گھر میں رہنے والا ایک شخص اسرائیل کو مطلوب ہے۔ واضح رہے یہ گھر 50 سالہ یوسف کا تھا۔

چار بچوں کے باپ ایک فلسطینی نے بتایا اسرائیلی فوج کے حملے میں میرا گھر بھی تباہ کر کے ناقابل رہائش بنا دیا گیا، اب رہنے کے لیے خیمہ لگا لیا ہے۔اب میرے کپڑے میرے ساتھ گاڑی میں رکھتا ہوں ۔'

اس بے گھر کر دیے گئے فلسطینی نے بتایا ایک ہفتہ پہلے ان کی ایک رشتہ دار 65 سالہ خاتون کے گھر پر بھی فوج نے حملہ کیا اور خاتون کو ان کے شوہر سمیت گرفتار کر کے لے گئی۔ لیکن جب وہ رہا ہو کر واپس آئیں تو ان کا گھر الٹ دیا گیا تھا ۔

اسی طولکرم میں ایک گھر میں اسرائیلی حملہ گھر سے بچوں کے کھلونوں کی چوری سے مکمل ہوا کہ واپسی پر اسرائیلی فوجی ایک بیگ بوری میں کھلونے لے کر جارہے تھے۔ جاتے ہوئے اہل خانہ کو کہہ رہے تھےکہ تم دہشت گرد ہو۔ اس پر صاحب خانہ نے کہا جو کچھ یہ اسرائیلی فوجی غزہ میں نہیں کر سکےاب وہی کچھ یہاں کر رہے ہیں۔

چھوٹا غزہ

مکانوں کے ملبے پر ایک طرف ایک سکول کے پرنسپل تمیم اپنے دوست کے ساتھ بیٹھے کافی پی رہے تھے۔ کہنے لگا یہ بھی اب ایک چھوٹا غزہ ہے کہ یہاں بھی تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔

42 سالہ فلسطینی شہری تمیم نے اسرائیلی فوج کی جاری کارروائیوں کے بارے میں کہا' یہ ہمارے گھروں کو تباہ کر کے ہماری نقل مکانی چاہتے ہیں۔ یہ ہماری تباہی کر کے ہمارے حوصلے توڑنا چاہتے ہیں۔

ان کے ساتھ موجود دوست عبدالقادر حمدان نے کہا ' اس سے پہلے بھی اسرائیل نے ہمین یہاں سے اسی طرح نکالا تھا، جسے ہم فلسطینی 1948 کی نکبہ کہتے ہیں۔ اس میں 760000 فلسطینی بے گھر ہوکر نقل مکانی کر گئے تھے۔ اب وہ ایک بار پھر فلسطینیوں کو ان کی جگہوں سے بے دخل کر رہے ہیں۔ یہ تباہی یہ ملبے کے ڈھییر اسی لیے ہیں۔

قریب ہی المنشیہ اسٹریٹ ہے۔اس میں دو منزلہ عمارت تھی جس میں کنڈرگارٹن اور ایک شادی ہال ہوا کرتا تھا، اب بھی بچی کھچی بیرونی دیواروں پر بچوں کے ڈرائنگ اور اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں کے' لوگو' کے ساتھ ایک لوح سنگ ہے۔

یہاں 10 سالہ صالح نے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ ایسا لگا یہ المنشیہ بھی ایک چھوٹے سے غزہ کی طرح ہے ، گھر سمیت سب کچھ تباہ مگر حوصلے پوری طرح توانا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں