فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کے لیے غزہ جنگ کی شدت میں کمی لانے کا ’یہ صحیح وقت ہے‘، امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہاؤس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے ’یہ صحیح وقت ہے‘ کہ غزہ جنگ کی شدت میں کمی لائی جائے جبکہ دوسری جانب اسرائیلی رہنماؤں نے حماس کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں اتحادیوں کے تبصروں نے ان کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس پر بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل سے بات کر رہا ہے کہ ’کم شدت والے آپریشن کی طرف جایا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں اس تبدیلی کے لیے یہ صحیح وقت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔‘

رفح سے لی گئی ایک تصویر میں اسرائیلی بمباری کے دوران جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس پر دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے، جب کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ 14 جنوری 2024 کو اپنے 100ویں دن میں داخل ہو رہی ہے (تصویر AFP)
رفح سے لی گئی ایک تصویر میں اسرائیلی بمباری کے دوران جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس پر دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے، جب کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ 14 جنوری 2024 کو اپنے 100ویں دن میں داخل ہو رہی ہے (تصویر AFP)

دوسری جانب اتوار کو حزب اللہ کی جانب سے میزائل حملے کے بعد اسرائیلی جنگی جہازوں نے لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا۔

حزب اللہ کے شمالی اسرائیل شہر یووال پر میزائل حملے میں ایک عمر رسیدہ خاتون اور ان کا بیٹا ہلاک ہوئے ہیں۔

حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ غزہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

غزہ جنگ کے بعد سے پورے خطے میں صورتحال کشیدہ ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں جبکہ ایران حمایت یافتہ ملیشیا گروپ شام اور عراق میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یمن کے حوثی باغی بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں ہر حملے کر رہے ہیں جس کے جواب میں گزشتہ ہفتے امریکہ نے متعدد فضائی حملے کیے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصرا للہ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی تک ان کا گروہ حملے کرنا بند نہیں کرے گا۔

شمائلی اسرائیل کے شہر یووال پر حزب اللہ کے مہلک میزائل حملے سے نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جہاں ایک اور جنگ چھڑ سکتی ہے۔

حزب اللہ نے یہ حملہ اسرائیلی فوج کے اس بیان سے کچھ دیر بعد کیا جس میں کہا تھا کہ اسرائیل کی حدود داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تین لبنانی عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اتوار کی رات گئے اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ میزائل حملوں کے جواب میں لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمیرل ڈینیئل ہیگاری کا کہنا تھا ’شہریوں پر حملے نہیں برداشت کیے جائیں گے۔ اس کی قیمت صرف آج رات کو ہی نہیں ادا کروائی بلکہ آئندہ بھی کروائیں گے۔‘

دوسری جانب اتوار کو غزہ جنگ کے ایک سو دن مکمل ہونے پر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا اور مظاہرین نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں بھی شہریوں نے احتجاج کیا اور حکومت سے یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں