فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی جنگ مخالف کارکنان کو فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرنے پر جیل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایک کیفے میں بیٹھے ادھر ادھر نظر ڈالتے ہوئے (کہ کہیں کوئی سن نہ لے) ایک اسرائیلی جنگ مخالف کارکن اس عورت کے قریب ہو گیا جو فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس پر اسے غزہ میں اسرائیل کی بے رحمانہ جنگ کے دوران سزا ہو سکتی ہے۔

"انکار کرنے کا فیصلہ دلیرانہ ہے۔" 20 سالہ کارکن نو شبتے لیون نے کہا جو بھرتی سے انکار کرنے پر گذشتہ مارچ تک 115 دنوں کے لیے جیل میں بند تھے۔

انہوں نے 18 سالہ صوفیہ اور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو تل ابیب کے ایک بیرونِ خانہ کیفے میں اس کے ساتھ بیٹھی تھیں، "یہ جنگ کے وقت اور بھی دلیرانہ ہے۔"

رضاکار گروپ میسرووٹ کے مطابق گذشتہ ماہ اسرائیلی نوجوان تل مِٹنِک پہلا "ہتھیار اٹھانے سے انکاری" شخص بن گیا جسے 7 اکتوبر کو غزہ میں حماس-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد لازمی فوجی سروس سے انکار کرنے پر قید کی سزا ہوئی۔

میسرووٹ جو "ہم انکار کرتے ہیں" کا عبرانی ترجمہ ہے، اس گروپ میں مٹنک کے حامیوں میں سے کچھ افراد نے جنگ اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کی مخالفت میں آواز بلند کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔

جب قوم پرستانہ جذبات جنگ کے وقت میں بالخصوص بڑھتے ہیں تو بھرتی ہونے سے انکار کا مطلب ہے: ایک تنہا سیاسی پوزیشن اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں فوج کو بڑے پیمانے پر قومی شناخت کے سنگِ بنیاد اور فوج میں خدمات انجام دینے کو زندگی کے ایک اہم واقعے اور موڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہو۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے جنگی بیانات کے درمیان انکاری – جس نام سے وہ اکثر اسرائیل میں جانے جاتے ہیں -- کہتے ہیں کہ ان کے مؤقف کی بنا پر انہیں غدار قرار دیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔

لیون نے تیزی سے ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے ہوئے سرگوشی میں بات کی کیونکہ اس نے تسلیم کیا کہ جنگ کی مخالفت کے بارے میں کھل کر بات کرنا "خطرناک" ہو سکتا تھا۔ مرد اور خواتین دونوں کو 18 سال کی عمر میں فوج میں بھرتی ہونا پڑتا ہے۔

اور بے خوف نظر آتی تھیں جنہوں نے عوامی فورمز پرر اپنے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے کہ جب وہ فروری میں اندراج کے لیے تیار ہوں گی تو انکار کر دیں گی۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "میرا ضمیر مجھے اندراج کرنے کی اجازت نہیں دیتاَ۔" اور مزید کہا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتیں کہ حماس کے پرتشدد نظریئے -- جو اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کرتا -- کا خاتمہ فوجی طریقوں سے ممکن تھا۔

"ہم آگ کی آگ سے جنگ لڑ رہے ہیں۔"

'انتقام کی جنگ'

اور کو توقع ہے کہ ان کی بھی 18 سالہ مٹںک کے جیسی قسمت ہو گی جسے جیل میں 30 دن کی ابتدائی سزا سنائی گئی تھی جو "انتقام کی جنگ" میں حصہ لینے سے ان کے انکار کے بعد معمول سے زیادہ سخت لگتی تھی۔

میسروٹ کے اراکین نے اے ایف پی کو بتایا، جو اسرائیلی سیاسی بنیادوں پر اندراج سے انکار کرتے ہیں انہیں عموماً ابتدائی طور پر 10 دن تک قید کیا جاتا ہے اور اگر مسلسل انکار کرتے رہیں تو جیل کی اضافی سزائیں دی جاتی ہیں۔

جنگ کا آغاز 7 اکتوبر کو ہوا جب حماس کے مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی سے ایک بے مثال حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کو تباہ کرنے کے عزم کے ساتھ اسرائیل نے زمینی حملے کے ساتھ ساتھ غزہ پر مسلسل بمباری کی ہے جس میں علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 24,100 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

یہودی اسرائیلیوں کے لیے بھرتی لازمی ہے۔ بعض اوقات مذہبی، طبی یا اخلاقی وجوہات کی بنا پر رعایت مل جاتی ہے -- لیکن سیاسی بنیادوں پر نہیں۔

میسرووٹ کے درجنوں رضاکار ہیں لیکن انکاریوں کی صحیح تعداد تاحال واضح نہیں ہے کیونکہ کئی لوگ منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ فوج سے جب اعدادوشمار مانگے گئے تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

"ایک قتلِ عام دوسرے کو جائز نہیں بنا دیتا۔" ایک اور 17 سالہ رضاکار ایڈو ایلام جو اندراج سے انکار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، نے برطانیہ کے اسکائی نیوز کو بتایا۔

'اخلاقی نابینا پن'

انکاری فلسطینیوں کے ساتھ بقائے باہمی کو فروغ دینے والے یہودی امن کے حامیوں میں شامل ہیں جنہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے جہاں وہ اکثر کٹر قوم پرست مداخلت کاروں اور پولیس کی طرف سے الزامات کا نشانہ بنتے ہیں۔

وہ ایک ایسے ملک میں اقلیت بنے ہوئے ہیں جس نے حالیہ برسوں میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ دیکھا ہے جبکہ پولز میں فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات یا دو ریاستی حل کے لیے یہودی اسرائیلیوں کی محدود تعداد نے حمایت کی ہے۔

ایک چھوٹی تعداد میں انکاریوں کا اسرائیلی فوج کو نقصان پہنچانے کا امکان نہیں ہے جو ایسے سینکڑوں ہزاروں حاضر سروس سپاہیوں اور اراکینِ مخصوصہ پر مشتمل ہے جو غزہ میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور تباہی پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہیں۔

کالم نگار گیڈون لیوی نے اسرائیل کے بائیں طرف جھکاؤ رکھنے والے روزنامہ ہاریٹز میں لکھا، "حتیٰ کہ ایک بھی سپاہی یا افسر، پائلٹ یا توپ خانے کا اہلکار نہیں۔۔ جس نے کہا ہو: 'بہت ہو گیا۔ میں قتلِ عام میں مزید حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔" اور مزید کہا، "ان کی خاموشی "اخلاقی نابینا پن" کی عکاسی کرتی ہے۔"

اور اندراج سے انکار کو ایک ایسی جنگ سمجھتی ہیں جو انسان رہنے کے لیے ضروری ہے۔

اور نے کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے نے انہیں "ناراض" کردیا جن کا ایک شناسا صحرائے ریو میں مارا گیا تھا جو جنوبی اسرائیل میں حماس کی جانب سے نشانہ بنائے گئے مقامات میں شامل تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے نے انہیں فوری طور پر غزہ میں اسرائیل کی انتقامی کارروائیوں کی "ہولناکیوں" کے بارے میں فکر مند کر دیا۔

انہوں نے کہا، "انتہائی تشدد، انتہائی تشدد کا ہی باعث بنتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں