فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کے 2024 کے مالی سال کے بجٹ میں حماس کےخلاف جنگ کی فنڈنگ شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت نے پیر کے روز تحریک (حماس) کے ساتھ تین ماہ کی جنگ کے بعد رواں سال کے لیے ایک نظرثانی شدہ ریاستی بجٹ کی منظوری دی ہے جس میں 55 بلین شیکل (15 ارب ڈالر) کی اضافی فنڈنگ شامل ہے۔

اضافی فنڈنگ میں دفاع کے لیے مختص اور جنگ سے متاثر ہونے والوں کے لیے معاوضے کے علاوہ صحت اور سماجی نگہداشت، پولیس اور تعلیم کے لیے مختص میں اضافی رقوم بھی شامل ہیں۔

اقتصادی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ غزہ پر جنگ کی وجہ سے اسرائیل کی مجموعی گھریلو پیداوار چوتھی سہ ماہی میں سکڑ جائے گی۔ معیشت گذشتہ سال کے 6.5 فی صد کے مقابلے میں صرف 2 فیصد بڑھے گی۔

غزہ جنگ نے توقعات بڑھا دی ہیں کہ اسرائیل کا مرکزی بینک جنوری میں شرح سود میں کمی کرے گا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت تیسری سہ ماہی میں توقع سے کم رفتار سے ترقی کی ہے۔

مہنگائی دو سال کی کم ترین سطح 3 فیصد پر پہنچ گئی

اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات نے پیر کو کہا کہ افراط زر کی شرح نومبر میں 3.3 فیصد کے مقابلے دسمبر میں توقع سے زیادہ 3 فیصد تک گر گئی، جو دو سالوں میں اس کی کم ترین سطح ہے۔

یہ شرح سود میں ایک اور کٹوتی کی طرف اسرائیل کے مرکزی بینک کے اقدام کی حمایت کر سکتا ہے۔

رائیٹرز کے ایک سروے نے توقع کی ہے کہ افراط زر کی شرح گذشتہ ماہ 3.1 فیصد تک گرے گی۔ نومبر کے مقابلے دسمبر میں صارف قیمت انڈیکس 0.1 فیصد گر گیا۔

اسرائیل کی طرف سے فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے جنگجوؤں کے خلاف چھیڑی جانے والی جنگ معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہےاور افراط زر کو کم کرنے میں مدد کر رہی ہے۔

اس ماہ بینک آف اسرائیل نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے 4.5 فی صد کر دی، جو کہ 4 سالوں میں پہلی کٹوتی ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے مانیٹری پالیسی میں نرمی مستقبل میں کٹوتیوں کی رفتار کو کم کر دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں