ایران کے خامنہ ای کی حوثیوں کے بحیرۂ احمر کے حملوں کی تعریف،جاری رہنے کی امید کااظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے منگل کو بحیرۂ احمر میں تہران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کے حملے "فتح تک" جاری رہیں گے۔

حوثی جو یمن کے بحیرۂ احمر کے بیشتر ساحلوں پر قابض ہیں، اس علاقے میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ یا تو اسرائیل سے منسلک ہیں یا پھر اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں اور اس طرح وہ غزہ میں جاری حماس-اسرائیل جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت کے طور پر اپنے اقدامات کا جواز پیش کر رہے ہیں۔ حماس دوسرا مزاحمت کار گروپ ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔

سرکاری میڈیا کی خبر کے مطابق خامنہ ای نے ایک تقریر میں کہا کہ حوثیوں نے "واقعی بہت اچھا کام کیا ہے۔ حوثیوں نے غزہ کے لوگوں کی حمایت میں جو کچھ کیا ہے وہ واقعی لائق تحسین ہے۔"

خامنہ ای نے کہا کہ حوثیوں نے اسرائیل کے "اہم چینلز" کو نشانہ بنایا ہے۔ اور مزید کہا: "ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ کوششیں، مزاحمتی کارروائیاں اور سرگرمیاں فتح تک جاری رہیں گی۔"

حوثیوں کے حملوں کے جواب میں امریکی اور برطانوی افواج نے گذشتہ ہفتے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر درجنوں فضائی اور سمندری حملے کیے تھے۔

خامنہ ای نے کہا کہ امریکی دھمکیاں بھی حوثیوں کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے انہیں دھمکیاں دیں لیکن وہ امریکہ سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔

حوثی باغیوں نے جو دارالحکومت صنعا اور مغربی اور شمالی یمن کے بیشتر حصوں پر قابض ہیں، امریکی اور برطانوی حملوں کے باوجود بحیرۂ احمر میں حملے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پیر کے روز امریکی فوج نے کہا کہ حوثیوں نے امریکی ملکیت کے ایک جہاز کو جہاز شکن بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں