فلسطین اسرائیل تنازع

جنگ کے بعد فلسطینی ہی غزہ کی حکومت چلائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع نے بعد از جنگ غزہ کی براہ راست اور سیکیورٹی کے امور سے اسرائیلی فوج کو بچائے رکھنے کے پیش نظر عندیہ دے دیا ہے کہ جنگ کے بعد فلسطینی ہی غزہ کی حکومت کے معاملات دیکھیں گے۔

یہ بات یواو گیلنٹ نے پیر کے روز کہی ہے۔ واضح رہے بعد از جنگ غزہ کا کنٹرول کس کے پاس ہو گا اس پر خود اسرائیل کے اندر بھی تضادات ہیں اور اسرائیل سے باہر بھی ۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع کے درمیان جنگی حکمت عملی کے امور کے علاوہ بھی اختلافات بھی کافی بڑھ چکے ہیں۔

اب غزہ میں جنگی مشکلات کے پیش نظر وزیر دفاع نے اپنا موقف کھل کر بیان کر دیا ہے کہ مستقل جنگی ماحول میں اسرائیلی فوج کام کیونکر کر سکتی ہے۔ ان حالات میں اپنے پہلے سے کیے گئے اعلان کے مطاق غزہ میں اپنی جنگ کو اسرائیل مزید طول دے سکتا ہے یا نہیں یہ بھی اہم ہو گیا ہے۔

کیونکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہہ دیا ہے کہ 'مستقبل کی غزہ کی حکومت کو غزہ سے ہی ابھرنا چاہیے۔ ہم جنگ کے بعد غزہ سے عسکری خطرہ نہیں رہنا چاہیے۔ حماس غزہ میں اس پوزیشن میں نہ رہے گی کہ وہ فوجی قوت کے طور پر کام کر سکے۔ '

وزیر دفاع اسرائیل نے کہا ' مستقبل میں غزہ کی حکومت ایک شہری متبادل ہی ہو گی ۔ مگر اسرائیلی فوج کا کردار بوقت ضرورت آپریش کا ہو سکتا ہے تاکہ اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا سکے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ وزیر اعظم کے دفتر میں سخت جھڑپ کے بعد تھوڑے ہی وقفے سے وزیر دفاع یواو گیلنٹ کی یہ باضابطہ پریس کانفرنس اور اس میں غزہ کے لیے فوج کے محدود کردار پر بات چیت کا دونوں رہنماوں کے درمیان معاملات سے تعلق ہے یا نہیں یہ سوال ابھر آیا ہے۔

وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے نیتن یاہو کو سخت لہجے میں یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ ان کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ واضح رہے ایک سودن سے اوپر کی جنگ میں اب تک 24 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں