فلسطین اسرائیل تنازع

حماس نے ہلاک ہو چکے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی ویڈیو پوسٹ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے پیر کے روز ایک نئی ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں دو ہلاک ہو چکے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ ان دونوں ہلاک ہونےوالے یرغمالیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی اندھا دھند بمباری کے دوران یہ دو یرغمالی بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج سے ایک نئی مشکل صورت حال پیدا ہو گئی ہے، تاہم اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ' اس فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس ویڈیو سے یرغمالیوں کی قسمت کے فیصلے کے بارے میں سخت تشویش پیدا ہو گئی ہے۔'

حماس کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ایک 26 سالہ یونیورسٹی طالبہ نوا ارگمانی بھی شامل ہے۔ جو بظاہر ایک خالی سفید دیوار کے سامنے کچھ کچھ پڑھ رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ کے دونوں یرغمالی مر چکے دکھائے گئے ہیں۔ یہ دونوں یرغمالی ایتائی سویرسکائی اور یوسی شارابی ہیں۔ ویڈیو کا اختتام دونوں مرد یرغمالیوں کی لاشوں کی تصاویر کے ساتھ ہوتا پے۔

یونیورسٹی کی طالبہ یرغمالی نوا ارگمانی کہہ رہی ہے کہ یہ دونوں مرد یرغمالی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس نے بمباری کے نتیجے میں اپنے زخمی ہونے کا بھی بتایا ہے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان ایڈمرل دینئیل ہگاری نے اتائی سویرسکائی نامی ہلاک شدہ یرغمالی کے بارے میں تفصیلی شناخت بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم دوسرے کے اہل خانہ کی درخواست پر اس کی شناخت کی تفصیل ظاہر نہیں کی ہے۔

فوجی ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ 'اتائی نامی یرغمالی اسرائیلی فوج کی بمباری سے ہلاک نہیں ہوا ہے۔ حماس نے یہ کہہ کر جھوٹ بولا ہے۔' ترجمان نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا 'جن عمارات میں حماس نے یرغمالیوں کو رکھا ہے ہم ان پر بمباری نہیں کرتے ہیں۔ '

ترجمان نے مزید کہا ' ہم اس جگہ پر بمابری نہیں کرتے جس کے بارے میں ہمیں علم ہو کہ اس جگہ پر یرغمالی موجود ہیں۔ البتہ آس پاس کے علاقوں پر بمباری کرتے ہیں۔ تاہم ابھی حماس کی جاری کردہ تصاویر اور اپنے پاس موجود دوسری معلومات کی بنیاد پر جائزہ لیا جارہا ہے۔

نوا ارگمانی اسرائیل کے دو سو سے زائد یرغمالیوں میں سے ایک زیادہ نمایاں ہو چکی یر غمالی خاتون ہے۔ اسے حماس نے سات اکتوبر کو حملوں کے دوران حراست میں لیا تھا۔ وہ ایک موسیقی کے میلے سے لائی گئی تھی۔ جسے حملے میں ایک قتل گاہ بنا دیا تھا ۔

اسے موٹر سوار حماس جنگجو اپنے ساتھ بٹھاکر لے گئے تھے۔ اس کے ساتھ اس کا دوست بھی پکڑا گیا تھا تاہم اسے پیدل لے جایا گیا تھا۔ نوا نے کہا کہاتھا ' یہ پاگل پن چھوڑو اور ہمیں ہمارے خاندانوں کو واپس کر دو جب تک ہم زندہ ہیں۔'

53 سالہ شارابی نامی یرغمالی کو کبوتز بیری نامی علاقے سے حماس کے جنگجو لائے تھے۔ یہ ایک سخت حملہ تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا ۔ جبکہ شارابی کی اہلیہ اپنی بیٹی کو بچانے میں کامیاب رہی البتہ اس کے بھائی کا خاندان مارا گیا تھا۔

35 سالہ اسویرسکائی کو بھی اسی بد قسمت یہودی علاقے سے پکڑا تھا۔ وہ زخمی تھا اور اس نے اپنی ماں کی ہلاکت ہوتے دیکھی تھی۔ اس کے باپ کو بھی مار دیا گیا تھا۔

واضح رہے ایک دن پہلے حماس نے تین یرغمالیوں کی ویڈیو دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بارے میں جلد بتایا جائے گا۔ اب ان کی ویڈیو سامنے آنے والے روز اسرائیلی وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے کہا ہے حماس یرغمالیوں کےساتھ نفسیاتی زیادتی کر رہی ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں