عراقی مسلح دھڑوں کا شام میں کونیکو بیس کو حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑھتے ہوئے علاقائی تناؤ کے جلو میں ایرانی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کے شام اور عراق امریکی مفادات پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان حملوں میں سے تازہ ترین حملہ شام میں کونیکو بیس پر کیا گیا ہے۔ عراقی مسلح دھڑوں نے پیر کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے مشرقی شام میں دیر الزور دیہی علاقوں میں امریکی کونیکو بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وفادار اور نام نہاد "عراق میں اسلامی مزاحمت" سے وابستہ دھڑوں نے مزید کہا کہ یہ ہدف غزہ پر اسرائیلی بمباری کے جواب میں کیا گیا۔

بمباری اور جواب

قابل ذکر ہے کہ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اتوار کی شام کو اطلاع دی تھی کہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے کونیکو گیس فیلڈ پر بمباری کی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بیس پر 3 میزائل داغے گئے۔ وہا دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے اڈے پر حملے کے جواب میں دیر الزور دیہی علاقوں میں مسلح گروہوں کے علاقوں پر بمباری کی۔

19 اکتوبر سے تقریباً 90

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 19 اکتوبر 2023ء سے یعنی غزہ میں جنگ کے 12 دن بعد حملوں کی تعداد تقریباً 90 تک پہنچ گئی ہے۔

ان میں سے 22 صرف کونیکو گیس فیلڈ کے اڈے پر اور 21 دیر الزور میں العمر آئل فیلڈ پر کیے گئے جس میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے شامل ہیں۔

جب کہ 15 حملوں نے حسکہ کے دیہی علاقوں میں الشدادی کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ 15 حملے رمیلان میں خراب الجیر بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں