غزہ میں فوری جنگ بندی ضروری، بحیرہ احمر میں حوثی حملے اسی جنگ کے باعث ہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے 'حوثیوں کے بحیرہ احمر میں حملے غزہ میں جاری جنگ سے جڑے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ ورلڈ اکنامک فورم کے دوران کیا ہے۔ وہ مملک کے اعلیٰ سطح کے وفد کی' ڈبلیو ای ایف' کے 24 ویں اجلاس میں قیادت کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا 'مملکت کی ترجیح غزہ میں جنگ بندی کے راستے کشیدگی کو کم کرنے کی ہے۔' انہوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا 'سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے مگر اس سے پہلے ضروری ہے کہ ایک ایسا جامع معاہدے طے پا جائے، جس میں فلسطینی ریاست کو قیام شامل ہو۔ '

مملکت کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر یہ بھی کہا ' ہم اس سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ علاقائی امن میں اسرائیل کے لیے امن بھی شامل ہے۔ مگر یہ امن صرف فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہو گا۔' اس سلسلے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا سعودی عرب اسرائیل کو اس کے بعد وسیع تر سیاسی معاہدے کے حصہ دار کے طور قبول کر لے گا؟ تو ان کا مختصر مگر جامع جواب تھا ' یقیناً ۔'

انہوں نے مزید کہا ' فلسطینی ریاست قائم کرناعلاقائی امن ممکن بنانا ایک اہم کام ہے۔ ہم اس کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ غزہ کے پس منظر میں بہت زیادہ متعلق معاملہ ہے۔ ' ان کے مطابق فلسطینی اپنے ان علاقوں میں آزاد ریاست کے آرزو مند ہیں جن علاقوں کو 1967 میں اسرائیل نے قبضے میں لے لیا تھا۔ '

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ' فلسطینی ایسی آزاد ریاست چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ لیکن بد قسمتی سے امریکی سرپرستی میں جو امن مذاکرات شروع کیے گئے تھے وہ دس برسوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ ' آج بھی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن ہی بہتر مستقبل کا راستہ ہے ۔ اس راستے کے لیے ہم پوری طرح پر عزم ہیں۔'

سعودی وزیر خارجہ نے کہا ' فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے ہر طرف سے ایک نیا آغاز ہونا چاہیے، کیونکہ فلسطینیوں کے ساتھ انصاف کی یہی ایک سبیل ہو سکتی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں