پاسداران میزائل حملہ، عراق نے ایران سے سفیر واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق نے منگل کے روز ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عراقی فیصلہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے عراقی کردستان کے علاقے میں کیے گئے میزائل حملے کے خلاف ردعمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کور نے پیر کی شام اسرائیل کے عراق میں قائم جاسوسی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا دعوی کیا تھا۔ اس بارے میں اسرائیل کی جانب سے کسی تبصرے سے گریز کیا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں امریکی ترجمان دفتر خارجہ میتھیو ملر نے اس ایرانی حملے کو نہ صرف ' لاپرواہ میزائل حملہ ' قرار دیا بلکہ اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا اس بلیسٹک میزائل حملے سے امریکہ کا کوئی جانی یا مادی نقصان نہیں ہوا ہے۔

امریکہ نے ایران کے اس حملے کو عراق کی سلامتی و خود مختاری کے خلاف حملہ بھی کہا۔جبکہ ایران کا کہنا تھا کہ اس نے یہ حملہ کرمان میں مقتول پاسداران کمانڈر جنرل سلیمانی کی چوتھی برسی کے موقع پر ان کے مزار کے پاس دو دھماکوں سے تقریبا ایک سو ہلاکتوں کا انتقام لینے کے لئے کیا تھا۔ یہ بھی دعوی کیا تھا کہ ابھی مزید بدلہ ہوگا۔

ایرانی پاسدارن کے اس میزائل حملے کے اگلے روز عراق نے اپنے سفیر ناصر عبدالمحسن کو ایران سے واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن سفیر کو بلاتے ہوئے کہا گیا ہے مشورے کے لئے بلایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں