یورپی یونین نے حماس کے سیاسی رہنما یحیٰ السنوار پر پابندیاں لگا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے منگل کے روز حماس کے مرکزی سیاسی رہنما یحیٰ السنوار کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا ہے جس میں شامل افراد پر یورپی یونین کے 27 ارکان میں پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں یحیٰ سنوار کے بنک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے جائیں گے۔

یحیٰ السنوار کے خلاف پابندیوں کا یورپی فیصلہ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے باعث کیا گیا ہے۔ سات اکتوبر سے اب تک اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے دوران 285 24 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعدا د 61 ہزار سے زائد ہے۔

ان 24 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاکتوں میں غالب تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ جنہیں اسرائیلی نے اپنی اندھا دھند بمباری اور ٹینکوں کے علاوہ توپ خانے کی گولہ باری سے ہلاک کیا ہے۔

اسی طرح 20 لاکھ سے زائد فلسطینی اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یورپی یونین نے حماس کو پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

تاہم منگل کے روز یورپی یونین نے یحیٰ سنوار کو سزا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں سات اکتوبر کے اسرائیل پر حماس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ واضح رہے اس حماس حملے میں اسرائیل کے مطابق 1140 کے قریب اسرائیلی ہلاک ہوئے تحت اور 240 کے قریب اسرائیلیوں کو غزہ سے یرغمال بنایا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے یورپی یونین کے یحیٰ سنوار کے خلاف پابندیوں کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کاٹز نے کہا ' یورپی یونن کا یہ فیصلہ ' ہماری سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے جنوبی افریقہ نے اسی سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا ہے جس کی 11 اور 12 جنوری کو سماعت ہو چکی ہے۔ تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ 'دنیا کی کوئی عدالت اسرائیل کو حماس کے خلاف جنگ سے نہیں روک سکتی ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں