مشرق وسطیٰ

اربیل پر ایرانی بمباری خطرناک پیش رفت اور عراق کے خلاف "کھلی جارحیت" ہے: السودانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے منگل کے روز کہا ہے کہ اربیل شہر میں حالیہ ایرانی بمباری ایک "جارحانہ عمل اور ایک خطرناک پیش رفت ہے جو بغداد اور تہران کے درمیان مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے"۔

سرکاری عراقی خبر رساں ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق السوڈانی کا یہ بیان سوئس شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے موقع پر امریکی بلومبرگ ایجنسی کو انٹرویو میں سامنے آیا۔

السودانی نے مزید کہا کہ "اربیل میں ایرانی حملہ عراق کے خلاف ایک واضح جارحیت تھی جس نے ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا اور اس کا نشانہ ایک عراقی کرد خاندان تھا، جس میں بچے بھی شامل تھے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اقدام یقیناً ایک خطرناک پیش رفت ہے جو عراق اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عراقی حکومت قومی خودمختاری کے اصول کے مطابق تمام سفارتی اور قانونی اقدامات کرنے کا اپنا حق محفوظ رکھتی ہے"۔

پیر کی شام ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے شمالی عراق کے کردستان علاقے کے شہر اربیل میں میزائل حملے کیے ہیں جن میں ان کے بقول اسرائیلی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ حملے "حال ہی میں ایران کے دشمنوں کی طرف سے کیے گئے دہشت گردانہ جرائم کا جواب ہیں"۔

سنہ 2020ء میں بغداد میں امریکی فضائی حملے میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی چوتھی برسی کی یاد میں ہونے والی سرگرمیوں کے دوران تین جنوری کو ایرانی صوبے کرمان میں دو خودکش دھماکے ہوئے۔ جس سے 91 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند گروپ ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔

منگل کی صبح شمالی عراق میں کردستان کے علاقے کی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے "پیر کی شام اربیل کے کئی علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جس میں چار شہری ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے۔ "

منگل کے روز عراقی قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ اربیل میں موساد کے مرکز کو نشانہ بنانے کا ایرانی دعویٰ بے بنیاد ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ایک تاجر کے گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی اموات ہوئی ہیں۔

عراقی وزارت خارجہ نے کہا کہ نشانہ بننے والی عمارتوں میں سے ایک "کرد تاجر بیشر دیزیی اور ان کے خاندان کا گھر تھا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں