اسرائیلی صدرکی ڈیووس آمد،اعلیٰ فلسطینی عہدیدارنےتقریب کو’تعصب‘ پرتنقید کا نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک سینئر فلسطینی اہلکار نے منگل کو عرب نیوز کو بتایا کہ ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح بین الاقوامی نظام فلسطینی عوام کو ناکام بنا رہا ہے۔

فلسطینی سرمایہ کاری فنڈ کے چیئرپرسن اور سابق نائب وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ اس وقت بات کر رہے تھے جب اسرائیلی صدر آئزیک ہرزوگ فورم کے بانی کلاؤس شواب اور اس کے صدر بورگے برینڈے کے ساتھ ایک "خصوصی گفتگو" میں حصہ لینے کے لیے ڈیووس پہنچے۔

اس کے برعکس مصطفیٰ صرف تین ہائی پروفائل فلسطینیوں میں سے ایک ہیں جنہیں ڈیووس میں مدعو کیا گیا ہے۔ صدر محمود عباس شرکت نہیں کر رہے ہیں اور کوئی سینئر فلسطینی سفارت کار موجود نہیں ہے۔

مصطفیٰ نے ڈیووس میں عرب نیوز کو بتایا، "ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی نظام میں دوہرا معیار ہے۔ بین الاقوامی نظام نے ہمیں ہر وقت ناکام کیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ ہر بار تھوڑی دیر بعد اس کی تصدیق کرتا ہے۔"

مصطفیٰ کے ساتھ ڈیووس میں فلسطینی کاروباری سربراہ سمر سی خوری اور بینک آف فلسطین کے چیئرمین ہشام شاوا شامل ہیں۔

فلسطینیوں کی محدود موجودگی کے باوجود مصطفیٰ نے کہا: "ہم راستے پر قائم رہنے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ڈیووس کے بارے میں اچھی خبر یہ ہے کہ یہ ایک ادارہ ہے۔ بہت سارے اچھے لوگ شرکت کرتے ہیں۔۔۔ اور یہ ان لوگوں کے ساتھ مشغول ہونے کا ایک اچھا موقع ہے۔"

ڈیووس کے منتظمین نے فورم میں شرقِ اوسط کی نمائندگی کا دفاع کیا۔

ایک ترجمان نے کہا، "سنگین سکیورٹی اور انسانی صورتِ حال۔۔۔ اس ہفتے ہونے والے مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہو گا۔"

"ہم خطے اور اس سے باہر کے کلیدی متعلقین کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کریں گے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے اور سفارت کاری کی طرف واپسی کے راستے تلاش کرنے کے بارے میں خیالات کا اشتراک کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر ہمارے پاس شرقِ اوسط سے 50 سے زیادہ رہنما ہوں گے۔"

مصطفیٰ نے کہا دنیا کو غزہ میں "انسانی بحران کے حجم کو کم نہیں سمجھنا چاہیے"۔ اور مزید کہا کہ علاقے میں 350,000 سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اگر کل جنگ بند ہو جائے تو بھی ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو واپس جا کر رہنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ لہذٰا تعمیرِ نو کے بارے میں بات کرنے سے پہلے سوال یہ ہے کہ: آپ ان لوگوں کے رہنے کے لیے جگہ تلاش کرنے کے فوری مسئلے سے کیسے نمٹتے ہیں؟"

جب کہ مصطفیٰ نے فورم میں ایک پرامید انداز برقرار رکھا لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شرکاء سے ایک پرجوش خطاب کیا جس میں انہوں نے روس اور اس کے "شکاری" صدر کے خلاف اپنے ملک یوکرین کی حمایت کا مطالبہ کیا۔

2022 میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) نے یوکرین کے لیے کٹر حمایت کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اس نے روسی سفارت کاروں، چند افراد پر مبنی حکومت کے ارکان اور کاروباری عہدیداروں پر اس تقریب میں شرکت پر پابندی عائد کر دی حتیٰ کہ سابق رشیا ہاؤس کو روس کے جنگی جرائم کے گھر میں تبدیل کر دیا۔

فورم کے تنقیدی مؤقف سے بہت سے لوگ حیران رہ گئے کیونکہ اسے طویل عرصے سے متحارب فریقین کے درمیان بات چیت اور گفت و شنید کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ بحرین کے مصنف اور پنڈت خالد جناحی نے اپنی کتاب "فرام رولرشپ ٹو لیڈرشپ" میں اس بے مثال پوزیشن کے بارے میں سوالات پوچھے جس کے جواب میں ڈبلیو ای ایف کے ایک اہلکار نے کہا کہ روس نے ایک خودمختار ملک پر حملہ کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔

جب جناحی نے 2003 میں عراق پر غیر قانونی حملے کے باوجود ڈیووس میں امریکہ اور برطانیہ کی موجودگی کی یاد دلائی تو انہیں صرف اتنا کہا گیا: "اس وقت عربوں نے کوئی شور نہیں مچایا۔"

ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اسرائیل کو اس وقت غزہ پر اندھا دھند بمباری کے لیے نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے جہاں 20,000 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

جناحی نے عرب نیوز کو بتایا، "مسئلہ یہ ہے کہ ہم (خلیجی خطہ اور وسیع شرقِ اوسط) یہاں غیر متعلقہ ہیں۔ یہاں متعلقہ لوگ صرف فلسطینی ہیں۔"

"اور جبکہ تنازعات پر بات کرنے والے چند پینل موجود ہیں لیکن وہ اسرائیل میں سکیورٹی پر توجہ مرکوز کریں گے اور ایک مزاحمت کار حماس اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو دیکھیں گے۔ قتل ہونے والی خواتین اور بچوں کے لیے کون بول رہا ہے؟"

وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ میں تقریباً 70 فیصد رہائشی عمارتیں اور گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ چھاپوں نے گرجا گھروں اور مساجد کے ساتھ ساتھ اسکولوں، ہسپتالوں اور صحت کی نگہداشت کے دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

بوقتِ تحریر غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف آٹھ بدستور فعال ہیں جس سے طبی بحران پیدا ہوا ہے کیونکہ ڈاکٹر اکثر بے ہوشی کی دوا کے بغیر اندھیرے میں سرجری کرنے پر مجبور ہیں۔

جناحی نے کہا، "لگتا ہے کہ اپنے نصب العین کے باوجود فورم کچھ لوگوں کے لیے دنیا کی حالت کو بہتر بناتا ہے لیکن یقیناً دنیا کے تمام لوگوں کے لیے اسے بہتر نہیں کرتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں