اسرائیل اورایران کے درمیان کشیدگی کی سزا عراقی عوام کو دی جا رہی :عراقی وزیرخارجہ

ایران اسرائیل پر حملے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے اس نے عراق میں حملہ کیا۔ اربیل میں موساد کے جاسوس نیٹ ورک کے ایرانی الزامات بے بنیاد ہیں: فواد حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک’سی این این‘ کو سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے شمال میں کردستان کے علاقے اربیل میں اسرائیلی موساد سے منسلک کوئی مراکز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اربیل پر اس لیے بمباری کی کیونکہ وہ اسرائیل پر براہ راست حملے کی طاقت نہیں رکھتا۔

فواد حسین نے کہا کہ پاسداران انقلاب نے اربیل میں ایک گھر سمیت شہری علاقوں پر حملہ کیا اور اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام عراقی کرد عام شہری تھے۔ وزیر خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کی اور انہیں "بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی" قرار دیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے سوموار کے روز کہا تھا کہ اس نے عراق اور شام دونوں میں مسلح گروہوں سے تعلق رکھنے والے ٹھکانوں کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نے شمالی عراق میں کردستان کے علاقے اربیل میں مسلح دھڑوں کے مراکز پر بمباری کی کیونکہ انہیں " موساد کے جاسوس ہیڈ کوارٹر" کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایران کے سرکاری العالم ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاسداران انقلاب نے اربیل میں ایک "فورٹیفائیڈ روم" کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) سے تعلق رکھتا ہے۔

فواد حسین نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عراقی سرزمین پر سامنے آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی اسرائیل پر حملہ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد ’شکار‘ کی تلاش میں ہیں اور اسی لیے انہوں نے اربیل پر حملہ کیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی عوام "ایران اور اسرائیل اور ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی قیمت چکا رہے ہیں"۔

عراقی وزارت خارجہ نے کل شام منگل کہا تھا کہ عراق نے اربیل حملے کے حوالے سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں شکایت پیش کی ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ شکایت "ایرانی میزائل جارحیت سے متعلق ہے جس نے اربیل شہر کو نشانہ بنایا اور اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری ہلاک اور زخمی ہوئے‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ انہوں نے عراق کی کردستان علاقائی حکومت کے وزیر اعلیٰ مسرور بارزانی سے خطے پر ایرانی حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر مزید کہا کہ اربیل کی صوبائی حکومت امریکا کی قریبی شراکت دار ہے۔ واشنگٹن ایرانی حملے کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں