فلسطین اسرائیل تنازع

شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کے پلٹ پلٹ کر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیلی ٹینکوں نے منگل کے روز غزہ کے ان حصوں میں ایک بار پھر چڑھائی شروع کر دی ہے جنہیں اسرائیلی فوج نے ایک ہفتہ قبل چھوڑ دیا تھا۔ یہ بات مقامی فلسطینیوں نے بتائی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے سال کے آغاز سے ان کئی علاقوں میں از سر نو زیادہ شدید حملے شروع کر دیے ہیں جنہیں اسرائیل نے فوجی نفری کم کرنے کے حوالے سے بتایا تھا۔ لیکن اب ایک مرتبہ پھر بڑے بڑے اور بار بار دھماکے شمالی غزہ میں دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔

پچھلے دو ہفتوں کے دوران اس علاقے سے اسرائیلی فوج کی واپسی کی خبروں کے دوران یہ واقعات قدرے کم رہے۔ لیکن اب پھر پہلے والے شدید حملے شروع ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ صرف 'ٹارگٹڈ' کارروائیاں کرے گا۔

پیر اور منگل کے درمیان ساری رات گولیوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ جبکہ صبح کے وقت اسرائیلی فضاعی دفاعی نظام آئرن ڈوم سے متعلق اسرائیلی اہلکاروں نے سرحد پار سے آنے والے راکٹ حملوں کو روکنے کی کوشش کی ، جس کا مطلب ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے جنگ کا ایک سو زیادہ دن گذرنے کے بعد بھی اپنی راکٹ داغنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے رات کے وقت درجنوں حماس جنگجووں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ ہلاکتیں مختلف مقامات پر تصادم میں بتائی گئی ہیں۔ غزہ کے فلسطینی حکام کا بھی یہ کہنا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بمباری سے 158 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی اور زمینی جارحیت سے بے گھر ہونے والے فلسطینی بچے 14 جنوری 2024 کو رفح میں کریم شلوم کراسنگ کے قریب ایک عارضی خیمہ کیمپ سے گزر رہے ہیں۔ (اے پی)
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی اور زمینی جارحیت سے بے گھر ہونے والے فلسطینی بچے 14 جنوری 2024 کو رفح میں کریم شلوم کراسنگ کے قریب ایک عارضی خیمہ کیمپ سے گزر رہے ہیں۔ (اے پی)

اب تک غزہ میں مجموعی طور پر فلسطینیوں کی ہلاکتیں 24285 کی تعداد میں ہو چکی ہیں۔ یہ کس بھی اسرائیلی جنگ میں غزہ کے شہریوں چند مہینوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ غزہ میں قبروں کی نئی تعداد دور دور نظر آتی ہے جبکہ گلی کوچے گھروں کے ملبے سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان ملبے کے اونچے ڈھیروں میں ابھی ہزاروں مزید لاشیں موجود ہیں۔

امریکہ کے اس طرح کے بیانات بھی فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ان لاشوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اسرائیلی بمباری سے شہریوں کی ہلاکتیں کم ہونی چاہییں۔ لیکن امریکی بیانات کی تعداد اور فلسطینیوں کی لاشوں میں اضافہ ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے پیر کے روز ہی ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے شمالی غزہ سے فوج نکالے جانے سے زمینی حملہ بند ہو رہا ہے۔

لیکن اس کے باوجود جنگ کو بڑھاوا دینے کے لیے کہیں کوئی ریموٹ بروئے کار ہے جس ی وجہ سے زمین پر کمی نہیں آ رہی۔ حتیٰ کہ جنگجووں کی مزاحمتی استعداد بھی موجود ہے۔

اسرائیلی فوج کے سابق جنرل زیو جنہوں نے غزہ میں فوجی کمان کر رکھی ہے نے رائٹرز کو بتایا ہے' حماس کے راکٹ چلانے والے 1000 میں سے دس سے پندرہ فیصد اب بھی موجود ہیں اور اس کے پاس 2000 کے قریب راکٹ بھی ابھی موجود ہیں۔ جو ابھی چلائے جانے ہیں۔ '

ایک اسرائیلی موبائل آرٹلری یونٹ نے جنوبی اسرائیل سے غزہ کی پٹی کی طرف ایک گولہ فائر کیا، اسرائیل-غزہ سرحد کے قریب، 14 جنوری، 2024۔ (اے پی)
ایک اسرائیلی موبائل آرٹلری یونٹ نے جنوبی اسرائیل سے غزہ کی پٹی کی طرف ایک گولہ فائر کیا، اسرائیل-غزہ سرحد کے قریب، 14 جنوری، 2024۔ (اے پی)

تاہم جنرل زیو نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اب کافی حد تک کنٹرول کر لیا ہے۔ اسی لیے اسرائیلی فوجی ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے آتے جاتے ہیں اور پوزیشنیں بدل بدل کر کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ البتہ ابھی دیر البلاح، رفح اور نصیرات میں اسرائیلی فوج کے لیے یہ ممکن نہیں ہو پایا ہے۔

منصوبے میں تبدیلی

وہ لاکھوں فلسطینی جنہوں نے جنہوں شمالی غزہ سے نقل مکانی کر لی تھی اب پچھلے ہفتے سے آہستہ آہستہ واپس آرہے تھے۔ لیکن منگل کے روز اسرائیلی حملوں میں اچانک تیزی کے بعد یہ لوگ رک گئے ہہیں۔ خبر رساں ادارے کو بعض لوگوں نے بتایا کہ اب ایک بار پھر ان واپسی کرنے والے فلسطینیوں کو اپنا منصوبہ بدلنا ہوگا۔

تین بچوں کے باپ 43 سالہ ابو خالد نامی ایک فلسطینی نے بتایا ' ہم نے جبالیہ کے نزدیک کے علاقے نازلہ میں اپنے گھر کی طرف واپسی کا منصوبہ تقریباً بنا لیا تھا۔ مگر منگل کی صبح اسے تبدیل کرنا پڑا۔ ابو خالد اب بری طرح تباہ شدہ غزہ میں ہی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہا ہے۔

نئے سرے سے شروع کیے گئے اسرائیلی حملوں سے شروع کے دنوں کی جنگی شدت کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ ساری رات بھی ٹینکوں اور جہازوں سے گولہ باری کی گھن گرج خوب سنائی دیتی رہی۔

اسرائیل کی افواج غزہ کے مرکز اور جنوبی شہر خان یونس کے مرکز اور دیر البلاح کے مرکزی شہر کے شمال اور مشرق کی اطراف کے قصبوں تک جنگ لڑ رہی ہیں۔

فوج نے بتایا ہے کہ اسرائیلی کمانڈو فورس نے خان یونس میں عسکریت پسندوں کے دفاعی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے' ٹارگٹڈ' کارروائیاں کی ہیں، جس میں حماس کے کئی سینئر اور علاقائی کمانڈروں کے دفاترکو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

تاہم یہ حقیقت ہے غزہ میں جاری اس طویل اسرائیلی جنگ کی وجہ سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ حتیٰ کے عالمی سطح پر اس غزہ جنگ کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ سیاست، سفارت اور تجارت سب اسی کے تابع ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں