فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے بغیر خطے میں کوئی علاقائی انضمام نہیں ہو سکتا:بلنکن

اسرائیل اور فلسطین دونوں میں ایک انسانی المیہ ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے غزہ کے تنازعے کو "تکلیف دہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی فلسطینی ریاست کی ضرورت ہے جو فلسطینیوں کی امنگوں کی ترجمان ہو اور مؤثر طریقے سے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرے"۔ انہوں نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’غزہ کی جنگ کی تکالیف نے میرا دل توڑ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جانا چاہیے‘‘۔

انہوں نے ایک حقیقی فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کا انتظام ایک متحد اتھارٹی کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔ بلنکن نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے بغیر اور اتھارٹی کی ترقی کے بغیر خطے میں کوئی علاقائی انضمام نہیں ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل اور فلسطین دونوں میں ایک انسانی المیہ ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے"۔

غزہ میں جنگ کی وجہ سے اسرائیل اوراس کے اتحادیوں بالخصوص امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

صدر بائیڈن نے بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ تین ہفتوں سے بات نہیں کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے غزہ میں جنگ سے نمٹنے کے حوالے سے دونوں کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

دو مؤقر اسرائیلی اخبارات نے پیر کے روز اطلاع دی تھی کہ وائٹ ہاؤس تنازعات کے خاتمے کے حوالے سے نیتن یاھو کے وژن اورغزہ میں جنگ کے بعد کے فلسطینی حکمرانی کے حوالے سے اسرائیلی حمایت نہ ہونے پر خوفزدہ ہے۔

اس تناظرمیں شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیئر پیڈرسن نے نے کہا کہ دنیا کو غزہ کی جنگ کو جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پیڈرسن نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں کہا کہ وہ "جنگ کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کے بارے میں بہت فکر مند ہیں"۔

گذشتہ روز ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں ڈائیلاگ سیشن کے دوران سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ غزہ کی جنگ پورے خطے کو بڑے خطرات میں گھسیٹ رہی ہے انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔

سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "ہمیں اسرائیل کی طرف سے جنگ اور کشیدگی کو روکنے کے لیے کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح غزہ میں جنگ بندی اور امن کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں