فلسطین اسرائیل تنازع

قطری ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امدادی سامان اور ادویات کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر کی مدد سے ایک نئے معاہدے پر منگل کے روز باضابطہ اتفاق ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے لیے دوحہ اور پیرس کی طرف سے مذاکرات میں سہولت کاری کی گئی۔

قطر کی سرکاری خبر رساں اجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے 'معاہدے کے تحت ادویات اور انسانی بنیادوں پر دوسری اشیاء کا غزہ میں شہریوں تک پہنچنا ممکن ہو سکے گا۔' نیز غزہ میں ادویات کی ترسیل کی راہ میں اسرائیلی رکاوٹوں کے ہٹائے جانے کے بدلے میں اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی ادویات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے ابھی اس معاہدے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ یاہو کے دفتر نے بتایا ہے کہ یرغمالیوں کے لیے یہ ادویات قطر کے نمائندوں کے زریعے بھجوائی جائیں گی۔ جو بعد ازاں اسرائیلی یرغمالیوں کو فراہم ہو سکیں گی۔'

واضح رہے تقریباً ڈیڑھ ماہ کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان یہ بالواسطہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے ماہ نومبر کے اواخر میں غزہ جنگی وقفوں پر اتفاق کے بدولت 140 کے قریب اسرائیلی یرغمالیوں کو رہائی مل گئی تھی۔

مگر یکم دسمبر سے اسرائیل نے جنگ بندی ختم ہوتے ہی خوفناک بمباریاں شروع کر دیں۔ اب ایک سو بتیس کے قریب اسرائیلی یر غمالی حماس کی قید میں ہیں، تاہم ان میں سے 25 یا 27 کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ شاید اب زندہ نہیں رہے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی بمابری کے نتیجے میں اب تک 24285 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 62 ہزار کے قریب ہے ۔ لیکن اسرائیلی فوج نے ایک جانب غزہ کے تقریباً تمام ہسپتالوں کو تباہ کر دیا ہے یا ناکارہ بنا دیا ہے۔ مزید یہ کہ غزہ کے بچے کھچے ہسپتالوں تک ادویات کی ترسیل تو درکنار پانی اور بجلی کی فراہمی بھی روک رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں