فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کی جاری کردہ ویڈیو کے بعد اسرائیل کی غزہ میں 2 مزید یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی کبٹز کمیونٹی نے منگل کے روز ہی اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ غزہ میں دو مزید اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ ان دونوں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت کے بارے میں حماس نے ایک روز قبل بتایا تھا اور اس بارے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

بعد ازاں اسرائیلی کبٹز کمیونٹی نے ان کی موت بارے تصدیقی بیان جاری کیا ہے۔ البتہ ان دونوں یرغمالیوں 53 سالہ یوسی شارابی اور 38 سالہ ایتے سویرسکائی کی ہلاکت کو اسرائیلی بمباری سے تسلیم کرنے کے بجائے دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں کو حماس نے دوران حراست ہلاک کیا ہے۔

اس سے قبل جاری کردہ ویڈیو میں حماس نے ان دونوں کی ہلاکت کہ وجہ اسرائیل کی اندھا دھند ہونے والی بمباری بتائی تھی۔ کبٹز بیری کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دونوں مقتول یرغمالیوں کی لاشیں حماس کے پاس ہیں جو ہمیں باقی یرغمالوں کے ساتھ واپس ملنی چاہییں۔

واضح رہے یونیورسٹی کی یرغمالی طالبہ نوعا ارغمانی نے حماس کی جاری کردہ ویڈیو میں بتایا تھا کہ ' یہ دونوں مرد یرغمالی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ' اس نے بمباری کے نتیجے میں اپنے زخمی ہونے کا بھی بتایا ہے۔

اس پر اسرائیلی فوجی ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے ایتے سویرسکائی نامی ہلاک شدہ یرغمالی کے بارے میں تفصیلی شناخت ظاہر کی مگر دوسرے یرغمالی کے اہل خانہ کی درخواست پر اس کی تفصیلی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔

فوجی ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ 'ایتے نامی یرغمالی اسرائیلی فوج کی بمباری سے ہلاک نہیں ہوا، اس بارے میں حماس نے جھوٹ بولا ہے۔' کیونکہ جن مکانوں میں حماس نے یرغمالیوں کو رکھا ہے ہم نے ان پر بمباری نہیں کی'۔

53 سالہ یوسی شارابی نامی یرغمالی کو کبوتز بیری نامی علاقے سے حماس کے جنگجو لائے تھے۔ یہ ایک سخت حملہ تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا بھائی ایلی بھی تھا ۔ جبکہ شارابی کی اہلیہ اپنی بیٹی کو بچانے میں کامیاب رہی البتہ اس کے بھائی ایلی کا خاندان مارا گیا تھا۔ شارابی تیس برس قبل اسرائیل منتقل ہوا تھا۔

35 سالہ اسویرسکائی کو بھی اسی علاقے سے پکڑا تھا۔ وہ زخمی تھا اور اس نے اپنی ماں کی ہلاکت دیکھی تھی۔ اس کے باپ کو بھی مار دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں