فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی ڈرون حملے میں جل کر راکھ ہونے والے فلسطینی کمانڈر ابو شلال کون تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے مغربی کنارے کے شہر نابلس میں بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں ایک گائیڈڈ میزائل حملے میں ایک "دہشت گرد سیل" کو ختم کردیا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں بنیادی ڈھانچے کے کمانڈر عبداللہ ابو شلال کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس حملے میں اس کے متعدد ساتھی بھی ہلاک ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ابو شلال اسرائیلی فوج پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ نابلس کے رفیدیا سرکاری ہسپتال میں بلاطہ کیمپ کے قریب گاڑی پر اسرائیلی بمباری میں مارے جانے والے ایک شخص کی لاش پہنچائی گئی جو جل کر راکھ ہوچکی تھی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے اعلان کیا کہ ابو شلال "فوج اور شن بیٹ کی مشترکہ کارروائی میں مارا گیا"۔

عبداللہ ابو شلال
عبداللہ ابو شلال

ادرعی نے وضاحت کی کہ "عبداللہ ابو شلال کی سربراہی میں تخریب کاروں کے ایک سیل کو ختم کر دیا گیا۔ انہیں بلاطہ کیمپ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیل مغربی کنارے میں "دو سب سے بڑے دہشت گرد نیٹ ورکس میں سے ایک تھا"۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ابو شلال "متعدد کارروائیوں کا ذمہ دار تھا" جس میں اسرائیلی فوج کے خلاف دھماکا خیز آلات، فائرنگ اور بارود نصب کرکے حملے کرنے کی کارروائیاں شامل تھیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر"ابو شلال سیل کو اس کی کارروائی سے قبل ہی ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد ان کی گاڑی سے اسلحہ برآمد کیا گیا‘‘۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سیل کو غزہ اور بیرون ملک فلسطینی عسکریت پسند لیڈروں سے فنڈنگ اور ہدایات مل رہی تھیں۔

عبداللہ ابو شلال پر الزام تھا کہ اس نے گذشتہ برس القدس میں الشیخ جراح میں فائرنگ کرکے دو اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں