فلسطین اسرائیل تنازع

بغیر تلاشی طبی سامان غزہ منتقل کرنے کے معاملے پر نیتن یاھو اور فوج آمنے سامنے

حماس رہ نما کی ٹویٹ نے اسرائیلی وزیراعٓظم اور فوج کو ایک دوسرےسے ٹکرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں ادویات کی فراہمی کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان فرانس اور قطر کی ثالثی کے تحت طے پانےوالی ڈیل کے بعد اسرائیلی فوج اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

دونوں میں یہ الزامات اس وقت لگائے گئے جب حماس کے ایک لیڈر کی طرف سے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک بیان پوسٹ کیا گیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کو بھیجی گئی ادویات اور طبی سامان کے حوالے سے یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اسرائیلی فوج ان کا معائنہ نہیں کرے گی۔

حماس رہ نما ابو مرزوق کے اس بیان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور فوج کی طرف سے الگ الگ موقف سامنے آیا ہے۔

"عرب ورلڈ نیوز ایجنسی" کے مطابق ایک طرف وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ غزہ میں داخلے سے قبل ادویات کی کھیپ کے معائنہ کے انتظامات سے نمٹنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ یہ فوج کی ذمہ دارہ ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے فوج کے حوالے سے بتایا کہ اسے ادویات کی منتقلی کے منصوبے کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب حماس رہ نما موسیٰ ابو مرزوق کا ایک بیان بھی سامنے آیا۔

اسرائیلی فوج نے زور دے کر کہا کہ وہ اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہے۔ اس سےاس بارے میں اس کی رائے نہیں پوچھی گئی۔

اس کے علاوہ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوج پر ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہونے کی کوشش نہ کریں۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انہوں نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ٹرک ابھی تک داخل نہیں ہوئے ہیں، تو آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ فوج اور سکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری کریں کہ انہیں بغیر معائنہ کے داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری اور دائرہ اختیارمیں ہے‘‘۔

غزہ میں ایک شخص تباہ شدہ عمارت کے سامنا کھڑا ہے
غزہ میں ایک شخص تباہ شدہ عمارت کے سامنا کھڑا ہے

قطری وزارت خارجہ نے منگل کو فرانس کے تعاون سے اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے ثالثی کی کامیابی کا اعلان کیا جس میں غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کو ادویات کی فراہمی کے بدلے میں غزہ کے شہریوں کے لیے امداد کی فراہمی شامل ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بیان میں کہا کہ دوائیں اور امداد بدھ کو مصری شہر العریش بھیجی گئی۔ یہ ادویات قطری مسلح افواج کے دو طیاروں میں لائی جانی تھی جس کے بعد اسے غزہ منتقل کیا جانا ہے۔

ابو مرزوق نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ حماس کی قید میں اسرائیلی قیدیوں کو ادویات کی فراہمی کی درخواست ریڈ کراس کی طرف سے آئی تھی۔ اس حوالے سے حماس نے کچھ شرائط رکھیں۔ ان شرائط میں اسرائیلی فوج کی طرف سے ادویات کے سامان کی تلاشی نہ لینے کی شرط بھی شامل تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شرائط میں شامل ہے کہ " اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے دوائی کے ہرڈبےپرفلسطینیوں کے لیے ایک ہزار ڈبے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ کہ دوائی ایک ایسے ملک کے ذریعے فراہم کی جائے گی جس پر ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ ریڈ کراس دوائیوں کو چار ہسپتالوں میں رکھے گا اور غزہ کو مزید امداد اور خوراک فراہم کی جائے گی‘‘۔

ابو مرزوق نے مزید کہا کہ " 100 دنوں کی اسرائیلی پابندیوں کے باوجود مقدار، ثالث، تقسیم کے طریقہ کار اور شمالی غزہ تک ادویات کی ترسیل کا تعین ہم نے خود کیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں