سوشل میڈیا پر فلسطینی کوفیہ میں لپٹی گڑیا کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کی شدت اور ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کےدوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرایک ویڈیو کلپ نشرکیا گیا۔ اس ویڈیو میں ایک ایسی گڑیا دکھائی گئی ہے جسے فلسطینی مزاحمت کی علامت ‘کوفیہ‘ میں لپیٹا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے کہا کہ اس گڑیا کو اسرائیل میں بچوں کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو پر صارفین کی طرف سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اسے فلسطینی بچوں کا تمسخر اڑانے اور ان کی توہین کا ایک نیا ہھتکنڈہ قرار دیا ہے۔

ویڈیو میں دکھائی گئی گڑیا کے چہرے پر زخموں کے نشانات ہیں اور اسے فلسطینی کوفیہ [سکارف] میں دکھایا گیا تھا۔ جن صفحات پر اس ویڈیو کو پوسٹ کیا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اسے اسرائیل میں غزہ کے بچوں کا مذاق اڑانے کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے۔

ان پوسٹس کو سوشل میڈیا سائٹس پر عربی، ہسپانوی اور انگریزی میں ایک ایسے وقت میں ہزاروں کمنٹس ملے جب غزہ کی پٹی میں جنگ جاری ہے۔

تاہم یہ گڑیا فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے انتقامی حربے کا حصہ نہیں بلکہ اس کی کہانی کچھ اور ہے۔

گڑیا کا مقصد فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے

یہ دعویٰ گمراہ کن ہے کہ ویڈیو کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ اس گڑیا کو میکسیکن آرٹسٹ نے غزہ کے بچوں کے حالات کو اجاگر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو فلسطینی بچوں کا مذاق اڑانے کے لیے اسرائیل میں فروخت ہونے والا کھلونا نہیں ہے۔

گڑیا کے ڈبے پر ہسپانوی زبان میں "incluye bebé palestino" لکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ "ان میں ایک فلسطینی بچہ بھی ہے"۔ اسی گڑیا کی تصویر چھ جنوری کو ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی تھی۔

تصویر کے پبلشر نے ساتھ والے کیپشن میں کہا کہ اس نے "میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر شائع کرنے کے لیے اس پروجیکٹ کو ڈیزائن کیا ہے تاکہ میکسیکو کے ایک محلے سے غزہ کی پٹی میں ہر روز ہونے والے خوفناک حملوں پر روشنی ڈالی جا سکے"۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق اس نے کھلونوں کی دکانوں کے مالکان سے کہا کہ وہ اسے اپنے اسٹورز میں فلسطینی بچی کی گڑیا کی تصویر کے لیے جگہ دیں۔

اکاؤنٹ کے مالک نے تصدیق کی کہ گڑیا کا مقصد فلسطینیوں کی حمایت کرنا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے اس وقت جنگ شروع کردی تھی جب حماس نے غزہ سے باہر اسرائیلی بستیوں اور فوجی مراکز پر اچانک حملہ کردیا تھا۔

حماس کے حملے میں 1140 افراد ہلاک اور اڑھائی سو کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جب کہ اسرائیلی بمباری کے دوران اب تک چوبیس ہزار سے زائد فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں