فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ میں شدت سے مغربی کنارے کی معیشت خستہ حالی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مقبوضہ مغربی کنارے میں حفط غزونہ بےزبان مایوسی کے ساتھ اپنے فلافیل اسٹال پر گاہکوں کی آمد کی منتظر ہیں جو 7 اکتوبر کو اسرائیل میں حماس کے حملوں کے بعد سے ویران پڑا ہے۔

اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہونے سے پہلے رام اللہ کے جڑواں شہر البریح کے قریب ورکشاپوں کے کاریگروں میں ان کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے کی کافی مقبولیت تھی۔

غزونہ جنہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر غزہ کی پٹی میں جنگ جاری رہی تو انہیں دکان بند کرنی پڑے گی، انہوں نے اے ایف پی کو اپنے گاہکوں کے بارے میں بتایا، "اب وہ اپنا کھانا گھر سے لا رہے ہیں کیونکہ حالات بہت مشکل ہیں۔"

غزونہ کہتے ہیں کہ ان کی آمدنی تقریباً 7,000 شیکل ($1,850) ماہانہ سے گھٹ کر صرف 2,000 ($530) رہ گئی ہے۔

ان کے انحطاط پذیر حالات مغربی کنارے کی معیشت کی موجودہ حالت کی عکاسی کرتے ہیں جو غزہ میں جنگ کی شدت سے خستہ حالی کا شکار ہے۔

تازہ ترین اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد تنازعہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

غزہ میں حماس حکومت کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں کم از کم 24,448 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین، بچے اور نوعمر ہیں۔

ورلڈ بینک نے اندازہ لگایا ہے کہ اس سال مغربی کنارے کی جی ڈی پی میں چھ فیصد کی کمی واقع ہو سکتی ہے جبکہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ 32 فیصد ملازمتیں پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔

فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ فار دی نیئر ایسٹ (آئی ایف پی او) کے ایک محقق طاہراللبادی کے مطابق بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو جنگ سے پہلے 14 فیصد تھی۔

اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں سے 130,000 ورک پرمٹ بھی واپس لے لیے ہیں جس سے کئی لوگوں کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں بچا۔

مغربی کنارے میں رہنے والے تیس لاکھ فلسطینی جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، بغیر اجازت کے اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتے۔

رام اللہ میں گھریلو مصنوعات اور کاسمیٹکس فیکٹری کے منیجر بشارا جُبران خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے تمام 70 ملازمین کو ملازمت پر رکھے رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔

لیکن ان کے کاروبار نے بحیرۂ مردار کے اجزاء سے بنے صابن کی پیداوار بند کر دی ہے جو وہ ہوٹلوں کو فروخت کرتے تھے۔

جنگ کی شدت اور گاہکوں کے دور رہنے سے انہوں نے گذشتہ سال اپنے نقصانات کا تخمینہ 200,000 ڈالر لگایا ہے۔

وہ فلسطینی بازار میں واشنگ پاؤڈر اور دیگر گھریلو مصنوعات فروخت کر کے اپنی فیکٹری کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔

لیکن اس کے کسی بھی سامان کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں ہے جو ایک اہم بازار ہے جو اس کی فروخت کا 20 فیصد بنتا تھا۔

بشارا کہتے ہیں کہ مغربی کنارے میں چوکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اسرائیلی فوج کی طرف سے بعض شہروں کو سیل کرنے کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں، "کئی بار ٹرک چلا جاتا ہے اور اسے نابلس کے شمال تک پہنچنے میں چار یا پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں جبکہ وہاں پہنچ کر پتا چلتا ہے کہ وہ شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔ تو وہ بس واپس آ جاتا ہے۔"

اب وہ ہر دو یا تین دن بعد ڈیلیوری کرتے ہیں جو جنگ سے پہلے ہر دو دن بعد ہوتی تھی۔

فلسطینی چیمبر آف کامرس کے صدر عبدو ادریس کے مطابق اس طرح کے عوامل معیشت کی تنگی کا باعث بنے ہیں جو اب اپنی صلاحیت کے 50 فیصد پر کام کر رہی ہے۔

محقق لبادی کہتے ہیں کہ فلسطینی معیشت کا جنگ سے پہلے ہی "دم گھٹا ہوا" تھا اور وہ اسرائیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھی۔

1990 کے عشرے کے اوسلو معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ سیاسی جمود برقرار رکھا جائے گا اور فلسطینیوں کو اقتصادی ترقی کا وعدہ کیا گیا تھا۔

فلسطین کی اقتصادی ترقی "نہ ہونے" پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لبادی نے کہا، "لیکن اس جمود کو اسرائیل کی "مغربی کنارے کی نوآبادیات" نے مجروح کیا۔

وہ کہتے ہیں، "اس کے نتیجے میں بحران کے وقت میں تیزی سے کمزور ہوتی فلسطینی معیشت "اپنے تمام وسائل سے محروم اور لچک کی انتہائی محدود صلاحیت کے ساتھ رہ گئی۔"

اسرائیل مغربی کنارے کی سرحدوں کو کنٹرول اور فلسطینی مصنوعات پر ٹیکس وصول کرتا ہے جسے پھر اسے فلسطینی اتھارٹی کو دینا چاہیے۔

لیکن 7 اکتوبر سے وہ ٹیکس ادا نہیں کیے گئے۔

فلسطینی وزارتِ خزانہ کے مطابق دسمبر تک اسرائیل نے فلسطینی مصنوعات پر عائد ٹیکس کی مد میں دو ارب شیکل ادا نہیں کیے تھے۔

ٹیکس روکے جانے کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی سرکاری ملازمین کو ادائیگی کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

سرکاری ملازمین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی دسمبر کی تنخواہیں ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔

اکتوبر میں انہیں ان کی اجرت کا 50 فیصد اور نومبر میں 65 فیصد ملا۔

جبران کہتے ہیں، "نامعلوم کا خوف ہمیں مار رہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کل کام پر جا سکیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں