فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ رکنے پر اسرائیل پر بھی حملے نہیں ہوں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ان کے اتحادی گروپ حملے بند کر دیں گے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ غزہ میں جنگ بند کر دی جائے۔ بصورت دیگر تصادم مشرق وسطی میں پھیل جائے گا۔

ایران فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کا حامی ملک ہے ۔وہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے خلاف بھی حماس کی حمایت کرتا ہے۔

ایران کا اس سلسلے میں امریکہ پر الزام ہے کہ امریکہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی پشت پناہی کر رہآ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے اس موقف کا اظہار ڈیووس کے اجلاس کے موقع پر کیا ہے۔

واضح رہے غزہ میں اب تک چوبیس ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں ۔ جبکہ بے گھر کر دیے گئے فلسطینیوں کی تعداد دو ملین سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

وزیر خارجہ ایران نے کہا ' غزہ میں نسل کشی کا کا خاتمہ خطے میں فوجی کارروائیوں اور جاری بحرانوں کے خاتمے کا باعٹ بنے گا۔

بحیرہ احمر میں کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا اس مسئلے کا تعلق غزہ سے ہے۔۔جس طرح کی پیش رفت غزہ کے اندر ہوگی ویسی یے بحیرہ احمر میں ہوتی نظر آئے گی۔ اگر غزہ میں اسرائیل جرائم بند نہ ہوئے تو اس کا نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا۔

وزیر خارجہ ایران نے مزید کہا ' امریکہ اور برطانیہ کے جنگی طیاروں اور جنگی آبدوزوں نے پوری رات بمباری کی اور صبح اٹھ کر صدر جو بائیڈن نے حوثیوں کو دہشت گرد گروپ کہنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا' ایران نے عراق کو اسرائیلی جاسوسی اڈے کے بارے میں مکمل معلومات دی تھیں۔ بعد ازاں ایرنی پاسداران نے اسرائیلی جاسوسی اڈے پر حملہ کیا تو عراق نے کہہ دیا کہ موساد کا کوئی اڈہ عراق میں نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں