قطر:سابق وزیر خزانہ کو منی لانڈرنگ پر 20 سال قید اور اربوں ڈالر کے جرمانے کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قطر کی ایک عدالت نے حکمران خاندان کے اہم فرد اور سابق وزیر خزانہ کو' منی لانڈرنگ کے ایک مقڈمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 20 سال قید کی سزا دی یے ۔

سابق قطری وزیر خزانہ کا نام علی شریف ہے اور وہ سابق وزیر اعظم کے بھائی ہیں ۔

فوجداری عدالت میں سابق وزیر خزانہ علی شریف کے خلاف یہ جرم ثابت ہو گیا ہے کہ انہوں نے پانچ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی خطیر رقم کی منی لانڈرنگ کی ہے۔

ایک عدالتی دستاویز کے مطابق جو فیصلے سے متعلق ہے اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹر کو دستیاب ہوئی کے مطابق جرم کو سنگین نوعیت کا بتایا گیا ہے اور عدالت نے اپنی نوعیت کا یہ پہلا فیصلہ دیا ہے، جس کے تحت عدالت نے علی شریف کو سولہ اعشاریہ سات ارب ڈالر کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ یہ جرمانہ 61 بلین قطری ریال کے برابر ہے۔ عدلتی حکم کے مطابق سابق وزیر خزانہ کو یہ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا- عدالتی دستاویز کے مطابق - اور اضافی جرمانے کی رقم دستاویز سے معلوم ہوا ہے کہ جج حضرات نے شیخ نواف بن جاسم بن جبور الثانی کو بھی اس میں بالواسطہ ملوث پایا ہے۔

شیخ نواف بن جاسم بن جبور قطری حکمران خاندان کے ایک اعلیٰ عہدے دار اور قطر کے سابق وزیر اعظم کے بھائی ہیں۔ وہ بھی عوامی فنڈز کے غلط استعمال کا مرتکب ہیں، انہیں چھ سال قید اور 825 ملین ریال جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

علی شریف اور شیخ نواف کو 14 دیگر افراد کے ساتھ مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سزا پانے والے سب افراد دس جنوری کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دونوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران الزامات کے جواب میں درخواستیں داخل کی تھیں۔ علی شریف کے وکلاء نے سزا پر تبصرہ کرنے کے لئے رائٹرز کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا اور علی زریف نے گرفتاری کے بعد سے عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

البتہ تبصرہ کے لیے شیخ نواف سے رابطہ ممکن نہیں ہوا۔ وہ کٹارا ہاسپیٹلیٹی کی کمپنی کے پہلے سربراہ تھے، نے رابطے کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ ایک خیراتی فاؤنڈیشن جو حکمران خاندان کے ذریعے چلائی جاتی ہے اور وہ اس کے وہ پہلے سربراہ تھے، نے کہا کہ اب ان کا خیراتی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں