فلسطین اسرائیل تنازع

ڈبلیو ایچ او کا غزہ کے ہسپتالوں میں سنگین حالات کا انکشاف،

طبی قلت کے باعث مریض 'موت' کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی ادارۂ صحت کے ایک اہلکار نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی کے باقی ہسپتالوں میں سنگین حالات بیان کیے جہاں عملے اور سامان کی شدید قلت کے باعث مریض "مرنے کے انتظار" میں ہیں۔

ایمرجنسی میڈیکل ٹیم کے رابطہ کار شان کیسی نے کہا کہ جنگ زدہ فلسطینی سرزمین میں تقریباً پانچ ہفتوں کے دوران انہوں نے ہسپتال کے مریضوں کو علاج کے لیے "ہر روز شدید جلے ہوئے زخموں اور کھلے فریکچر کے ساتھ کئی گھنٹوں یا دنوں تک انتظار کرتے دیکھا"۔

کیسی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں نامہ نگاروں کو بتایا، "وہ اکثر مجھ سے کھانا یا پانی مانگتے تھے -- جو اس مایوسی کی سطح کو ظاہر کرتا ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے غزہ میں جو 36 ہسپتال موجود تھے، وہ ان میں سے 16 فعال ہسپتالوں میں سے صرف چھ کا دورہ کر سکے تھے۔

"میں نے ذاتی طور پر جو دیکھا ہے وہ انسانی امداد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے ساتھ صحت کے نظام کا تیزی سے انحطاط بالخصوص پٹی کے شمال میں علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی کی کم ہوتی ہوئی سطح ہے۔"

انہوں نے شمال میں ایسے مریضوں کو دیکھنے کے بارے میں بیان کیا جو "بنیادی طور پر ایک ایسے ہسپتال میں مرنے کا انتظار کر رہے تھے جہاں ایندھن نہیں، بجلی نہیں اور پانی نہیں تھا۔"

کیسی نے کہا، "ہم نے غزہ شہر کو شمال میں ایندھن اور سامان پہنچانے کے لیے سات دن تک ہر ایک دن کوشش کی۔ ہر روز مربوط رسائی کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا۔"

کیسی نے کہا، ہسپتالوں کو کم از کم عملے کے ساتھ کام کرتے ہوئے مریضوں کے ایک سیلاب کا سامنا ہے جن میں سے بہت سے -- جیسے غزہ کی آبادی کی اکثریت -- اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

"ہسپتال کے ڈائریکٹر مجھے بتا رہے تھے کہ ان کے سرجن مثلاً پلاسٹک سرجن سرجری کیسے نہیں کر سکتے کیونکہ وہ لکڑیاں جمع کرنے باہر گئے ہوئے تھے تاکہ ان کا خاندان کھانا پکانے کے لیے آگ جلا سکے۔"

اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حماس کے بے مثال حملوں کے نتیجے میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ جس کے بعد سے لڑائی نے غزہ کو تباہ کر دیا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کم از کم 24,448 فلسطینی اسرائیلی بمباری اور زمینی حملوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین، چھوٹے بچے اور نوعمر ہیں۔

حماس اور دیگر مزاحمت کاروں نے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملوں کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا اور ان میں سے تقریباً 132 غزہ میں باقی ہیں جن میں کم از کم 27 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریسس کے بھی اسی طرح کے مطالبات کے بعد کیسی نے کہا کہ غزہ میں اہم ترین ضرورت "واقعی جنگ بندی" ہے۔

"اس میں سے ہر چیز صرف روزانہ کی بنیاد پر ضروریات کو پورا کرتی ہے۔"

جنوب میں کیسی نے کہا کہ انہوں نے ناصر میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا جہاں "ان کے پاس صرف 30 فیصد عملہ باقی تھا اور مریضوں کی تعداد ان کی بستروں کی گنجائش سے تقریباً 200 فیصد زیادہ تھی – اس لیے فرش پر راہداریوں میں ہر جگہ مریض تھے۔"

انہوں نے کہا کہ وہ برن یونٹ میں گئے جہاں ایک ڈاکٹر 100 مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔

کیسی نے کہا، "انسانی تباہی جو ہر روز سامنے آ رہی ہے، بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے" اور مزید کہا، "صحت کا نظام روز بروز تباہ ہو رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں