فلسطین اسرائیل تنازع

ہمیں غزہ پر قبضہ کرکے وہیں رہنا چاہیے:اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے ایک بار پھرغزہ کی پٹی کے حوالے سے شعلہ بیانی سے کام لیتےہوئےکہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر قبضہ کرکےاپنی فوج کو وہیں رکھنا چاہیے۔

ایتمار بن گویرنے اس نوعیت کے بیانات پہلے بھی دیے تھے جن پرامریکا سمیت عالمی برادری کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ اس سے قبل انہوں نے غزہ کی پٹی کے شہریوں کو بے گھر کرنے کی حمایت کی تھی۔

انتہائی دائیں بازو کے وزیرنے محصور غزہ کی پٹی پر قبضے کی دوبارہ حمایت کی ہے۔

کل بدھ کی شام اسرائیلی چینل 13 کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی حکومت اور افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر قبضہ کریں اور 3 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے بعد بھی وہاں موجود رہیں۔

انہوں نےکہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے پاس اب دو راستے ہیں۔ ان کی تجویز کو اپنا کر غزہ کی پٹی پر مستقل طور پر قبضہ کر لیں یا وزیر دفاع کے منصوبوں پر عمل کریں۔

غزہ پر حکمرانی

اسرائیلی وزیر بینی گینٹز نے حال ہی میں وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہا تھا کہ وہ ’وار کیبنٹ‘ کی تجویز پرعمل کرتے ہوئے غزہ کی حکمرانی کے معاملے کے ساتھ ساتھ رفح کراسنگ، صلاح الدین (فلاڈیلفیا) کے محور کے معاملے پر بات چیت کریں اورغزہ کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے وہاں پر اسرائیلی فوج تعینات کریں۔

انہوں نے لبنان کے ساتھ سرحد پر صورتحال کے حوالے سے سفارتی مذاکرات کے لیےٹائم لائن مقرر کرنے پر بھی زور دیا۔

غزہ رپر اسرائیلی بمباری کے بعد ہونےوالی تباہی کا منظر
غزہ رپر اسرائیلی بمباری کے بعد ہونےوالی تباہی کا منظر

اکتوبرکوغزہ پراسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے حملے کے بعد بن گویر غزہ کی پٹی پر بمباری تیزکرنے، وہاں سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور نئی بستیاں تعمیر کرنے پر زور دیا تھا۔

انہوں نے مغربی کنارے میں ہزاروں اسرائیلی آباد کاروں کو مسلح کیا اور فلسطینیوں کی کارروائیوں کے خلاف ان میں اندھا دھند ہتھیار تقسیم کرکے تنقید کا ایک نیا دروازہ کھول دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ بن گویرکا شمار اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزراء میں ہوتا ہے۔ وہ کنیسٹ کی "یہودی پاور" پارٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ فلسطین میں اسرائیلی آباد کاروں کے پرزور حامی اور فلسطینی ریاست کے سخت خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر ماضی میں فلسطینیوں کے خلاف نفرت پر اکسانے اور تشدد کے الزامات کے تحت مقدمات بھی چلائےگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size