ہم تیل کی طرح جوہری توانائی بھی بیچیں گے:الجبیرکی اٹامک انرجی ڈائریکٹر سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور موسمیاتی امور کے ایلچی عادل بن احمد الجبیر نے ایک مکالمے کے سیشن میں بہ طور مقرر کہا کہ سعودی عرب تیل کی طرح جلد ہی جوہری توانائی بھی فروخت کرے گا۔

سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم 2024ء کے سالانہ اجلاس کے موقعے پر’مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں پائیداری کی جانب جرات مندانہ اقدامات‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے عادل الجبیر نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے لائحہ عمل پر بات کی۔

انہوں نے سیشن کے دوران وضاحت کی کہ مملکت توانائی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کا مطالبہ کرتی ہے اور اس کا مقصد صرف تیل نہیں بلکہ توانائی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بننا ہے۔

انہوں نے زور دے کرکہا کہ مُملکت بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے۔ سعودی عرب نہ صرف معیارات کی پیروی کرنے کے لیے کام کرتا ہے بلکہ انہیں قائم کرنے ، کاربن کےاخراج کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

الجبیر اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں الجبیر نے کہا کہ "ہمارے پاس یورینیم کا بہت بڑا ذخیرہ ہے اور ہم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ہم آپ کو جوہری توانائی اسی طرح فروخت کریں گے جیسے کہ ہم۔تمہیں تیل بیچتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں