یمن میں حوثی ملیشیا کی حمایت بند کی جائے: برطانیہ کے وزیرِ خارجہ کا ایران پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے بات کی ہے اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی ملیشیا کی پشت پناہی بند کرے۔

کیمرون نے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا، "ایران کو حوثیوں کو ہتھیاروں اور انٹیلی جنس کی فراہمی بند کرنی چاہیے اور بحیرۂ احمر میں ان کے حملے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔"

"ایران کو بھی چاہیے کہ وہ علاقائی صورت حال کو لاپرواہی سے کام لینے اور دوسروں کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کرنا بند کرے۔ میں نے یہ بات وزیرِ خارجہ امیر عبداللہیان پر واضح کردی۔"

برطانیہ گذشتہ ہفتے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے میں امریکہ کے ساتھ شامل ہو گیا جو ان کے مطابق بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

وزیر اعظم رشی سنک نے پیر کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ ڈرون اور کروز میزائل کے مرکز سمیت تمام 13 طے شدہ اہداف کامیابی سے تباہ کر دیئے گئے۔

پرانے حریفوں ایران اور روس بلکہ ساتھی نیٹو رکن ترکی کی تنقید کے باوجود سنک اور کیمرون دونوں نے کہا ہے کہ حملے جائز، متناسب اور قانونی تھے۔

حوثیوں کا بیان ہے کہ ان کے حملے غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہیں جہاں ایران کا حمایت یافتہ حماس گروپ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے اسرائیل کے ساتھ جنگ آزما ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں