اسرائیل میں نئی حکومت اور سیاسی اتحاد کے لیے جوڑ توڑ، نیتن یاہو ہتھیار ڈالیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیل کے سیاسی منظر نامے میں پیش رفت کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔ اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور متعدد وزراء اور پارٹی رہ نماؤں کے درمیان الزامات کا تبادلہ سخت ہو رہا ہے اور پردے کے پیچھے ہونے والے اختلافات عوام کے سامنے آنے لگے ہیں۔

ان پیش رفتوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اپنی حکومت بچانے کے لیے فعال کارروائی کرنے کے لیے حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔ نیتن یاھو کو ایک پریشانی قبل از وقت الیکشن کی ہے جس میں ان کی ناکامی نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے۔

سات اکتوبر کے واقعے کے بعد اسرائیل میں رائے عامہ کے جتنے جائزے ہوئے ہیں ان میں بنجمن نیتن یاھو کی مقبولیت بہت کم دکھائی گئی ہے۔

سیاسی اتحاد

اسرائیلی میڈیا نے نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کے ایک ایسے اقدام کی اطلاع دی ہے جو ایک ایسا سیاسی اتحاد قائم کرے گی جو ایک مستحکم حکومت کو برقرار رکھے گا اور اس کے سہارے کسی بھی لمحے قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور نہ ہو۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے غزہ میں ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اسے ابھی تک اس کے مقاصد کے حصول میں ناکامی ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بدھ کو نشر کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ لیکوڈ پارٹی نے پہلے ہی حزب اختلاف کے رہ نما یائر لپیڈ کی قیادت میں ’فیوچر پارٹی‘ کے ساتھ رابطے شروع کر دیے ہیں، تاکہ ایک سیاسی شراکت قائم کی جا سکے جو نیتن یاہو کی حکومت میں اس کے داخلے کو یقینی بنائے۔

"پیشکش مسترد کر دی گئی"

لپیڈ کی پارٹی کنیسٹ میں 24 نشستوں پر قابض ہے جو کہ اسرائیلی حکومتوں کے استحکام کے توازن میں ایک بڑا سیاسی وزن رکھتی ہے۔ کسی بھی اسرائیلی حکومت کو اپنی بقا کے لیے ہمیشہ پارلیمنٹ میں 120 میں سے 61 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے وضاحت کی کہ نیتن یاہو کی پارٹی کی طرف سے لپیڈ کی پارٹی کو پیش کی گئی تجویز میں ایک سال کے لیے مشترکہ حکومت بنانے کی ہے جس کے بدلے میں فیوچر پارٹی کے متعدد رہ نماؤں کے لیے اعلیٰ سطحی وزارتی عہدوں کی پیش کش بھی شامل ہے۔ اس پیش کش میں قومی سلامتی کی وزارت جس کا قلم دان اس وقت ایتمار بن گویر کے پاس ہے کی بھی تجویز شامل ہے۔

لیکوڈ پارٹی نے ان رابطوں کی خبروں کے لیک ہوتے ہی ان کی تردید کر دی۔ لیکن نشریاتی ادارے نے تصدیق کی کہ یائر لپیڈ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور کہا کہ نیتن یاہو اہل نہیں ہیں۔ وہ اسرائیلی وزیراعظم کے کہے گئے کسی بھی لفظ پر بھروسہ نہیں کرتے۔

لائبرمین نے ایک شرط پر اتفاق کیا

نیتن یاہو نے اپنی پیشکش اسرائیلی بیتونا پارٹی کے رہ نما ایویگڈور لائبرمین کو بھی بھیجی۔ نیتن یاھو نے اُنہیں حکومت میں اعلیٰ عہدے کے علاوہ جنگی کونسل کا رکن بننے کی پیشکش کی۔

بینی گینٹز: رائیٹرز فائل فوٹو
بینی گینٹز: رائیٹرز فائل فوٹو

لائبرمین نے انکار نہیں کیا اور جنگی حکومت میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، لیکن صرف جنگ کی مدت کے لیے وہ اس پر راضی ہوئے۔

تنازعات میں اضافہ

اسرائیلی امور کے محقق عمر جعارا کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی پارٹی کی پیشکش ریاستی کیمپ پارٹی کے ساتھ تنازعات میں اضافے کاباعث بنی۔ کیونکہ اس پارٹی کے سربراہ وار کیبنٹ کے رکن بینی گینٹز ہیں۔ نیتن یاھو بینی گینٹز کو الگ کرکے ایک سیاسی اتحاد بنانا چاہتے ہیں تاکہ سیاسی دباؤ سے نجات کے لیے نئے اتحاد سے مدد لی جائے۔

ایک ملین لوگ بھی سڑکوں پر ہوں تب بھی حکومت نہیں گرے گی

تاہم عمر جعارا نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ اسرائیلی حکومت گر جائے گی۔ یہاں تک کہ اگر دس لاکھ لوگ بھی سڑکوں پر آ جائیں تب بھی حکومت نہیں گرے گی۔

سیاسی محقق نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "اسرائیل میں جس کے پاس سیاسی طاقت ہے وہ گولڈن نمبر کا حامل ہے۔ بینی گینٹز اور نیتن یاھو کے مجموعی ارکان کی تعداد 64 ہے۔

لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ "نیتن یاہو بین گویر اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی جماعتوں کے ہاتھوں میں یرغمال نہیں رہنا چاہتے۔ وہ اپنی حکومت کو زیادہ سیاسی وزن اور زیادہ مقبول قانونی حیثیت دینا چاہتے ہیں"۔

گینٹز کا مطالبہ

بینی گینٹز نے غزہ کی پٹی پر جنگ سے متعلق نیتن یاہو کو مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے جواب سے یہ طے ہو گا ہے کہ آیا گینٹز جنگی کونسل میں رہیں گے یا دستبردار ہو جائیں گے۔

سیاسی تجزیہ کار راسم عبیدات کا خیال ہے کہ نیتن یاہو گینٹز کے مطالبات کا جواب دینے یا جنگ کے حتمی مقصد کا تعین کرنے اور اس کے بعد کے مسئلے پر بات کرنے سے انکار کرتے رہیں گے۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر کے بقول نیتن یاہو حکومت برقرار نہیں رہ سکتی
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائیر کے بقول نیتن یاہو حکومت برقرار نہیں رہ سکتی

عبیدات نے عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ “نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اگر وہ گینٹز کے مطالبات کا جواب دیتے ہیں، جس سے وزراء بن گویر اور سموٹریچ مطمئن نہیں ہوں گے، تو ان کی حکومت اندر سے پھٹ جائے گی۔ وہ جانتے ہیں کہ دونوں وزراء کی جماعتیں اس وقت حکومت کو گرنے سے بچائے ہوئے ہیں۔

گینٹز کی واپسی

انہوں نے مزید کہا کہ "گینٹز کے جنگی کونسل سے دستبرداری کے ساتھ چیزیں متاثر ہو سکتی ہیں، لیکن اگر وہ دستبردار ہو جاتے ہیں تو حکومت قانونی طور پر نہیں گرے گی، کیونکہ وہ جنگ کے بعد اس میں شامل ہوئے تھے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "وزیر بن گویر نے واضح طور پر دھمکی دی اور کہا کہ ہمیں غزہ پر قبضہ کرنا ہے اور نیتن یاہو کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تو میرا راستہ یا گینٹز کا راستہ چنا جائے۔ نیتن یاہو نے جنگ کی رفتار کو کم کرنے کے حوالے سے امریکی دباؤ کے سامنے بھی نہیں جھکے

"نتن یاہو کے بعد کا دور"

اسرائیلی سیاسی حلقوں میں بڑھتے اختلافات کے ساتھ ’این بی سی‘ نے کل امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نیتن یاہو کے بعد کے دور کا انتظار کر رہی ہے، جس سے ان کے سیاسی منظر نامے الگ ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔

نیٹ ورک کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے حالیہ دورہ اسرائیل کے بعد بائیڈن انتظامیہ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات مزید واضح ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں